تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 23
تاریخ احمدیت۔جلد 22 23 سال 1963ء ہماری حکومت اسلام کے اس زبر دست پہلوان کی خدمت کا یہ صلہ دے رہی ہے کہ آپ کی کتابوں کو ضبط کرے۔دوسرے لفظوں میں یہ بات ایک دفعہ پھر عیسائیت کے سیلاب کے لئے اپنے گھروں کے دروازے کھول دینے کے مترادف ہوگی۔پس ان حالات میں حکومت کا یہ اقدام نہایت غیر دانشمندانہ اقدام ہے ہمارے نزدیک حکومت کا یہ فعل نہایت غیر منصفانہ بھی ہے کیونکہ اس قسم کی پابندی قانون کی کسی عدالت میں یا عقلمند دنیا کی رائے کی عدالت میں ایک منٹ کے لئے بھی ٹھہر نہیں سکتی۔ہمارے نزدیک حکومت کا یہ اقدام مذہبی معاملات میں دخل اندازی کے مترادف ہے اور ہمارے جذبات کو سخت مجروح کرنے والا ہے۔ہمارے لئے قرآن مجید اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ قیمتی چیز ہمارے امام کے ارشادات ہیں اور یہ چیز ہمارے لئے انتہائی دکھ اور رنج کا باعث ہے کہ ہمیں اپنے امام کے ارشادات عالیہ کو اپنے پاس رکھنے انہیں پڑھنے اور دوسروں کو پڑھانے سے قانو نا روک دیا جائے۔نیز ہم ہرگز یہ باور کرنے کے لئے تیار نہیں کہ جو شخص دنیا میں امن اور سلامتی اور آشتی اور محبت اور صلح کا پیغام لے کر آیا تھا اس کی کوئی تحریر منافرت یا دشمنی کا باعث ہو۔لہذا ہم ممبران جماعت احمدیہ مقامی ربوہ بالا تفاق حکومت کے اس فعل کو سراسر غیر منصفانہ اور بے ضرورت اور غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے زبردست احتجاج کرتے ہیں اور حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری طور پر اس حکم کو واپس لے لیا جاوے۔ہم ہیں ممبران جماعت احمدیہ مقامی ربوہ 21 اس قرارداد کے بعد (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدرصد را مجمن احمد یہ پاکستان نے اپنے صدارتی ارشادات میں فرمایا:۔ہم امن پسند جماعت ہیں۔ہمیں اسلام نے اور پھر اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یاد دہانی کے رنگ میں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم قانون کا احترام کریں اور کبھی بھی قانون شکنی کے مرتکب نہ ہوں۔ہم محض ایک شہری کی حیثیت سے ہی قانون کے احترام کو ضروری خیال نہیں کرتے ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہم قانون کے احترام اور امن پسندی کو اپنا جزو ایمان سمجھتے ہیں۔اس سے دو گونہ فرائض عائد ہوتے ہیں ایک فرض حکومت پر اور دوسرا خود ہم پر۔