تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 22
تاریخ احمدیت۔جلد 22 22 سال 1963ء جماعتیں دیوانہ وار اٹھ کھڑی ہوئیں اور اسلامی غیرت کا بے مثال مظاہرہ کرتے ہوئے ریزولیوشنوں اور احتجاجی مراسلوں کے ذریعہ اس کثرت سے اپنے دلی غم وغصہ کا اظہار کیا کہ گو یا ملک میں احتجاجوں کا ایک سیلاب آ گیا۔اس سلسلہ میں ۶ مئی ۱۹۶۳ء کو مسجد مبارک ربوہ میں (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے زیر صدارت ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں اہل ربوہ نے حکومت سے اس غیر منصفانہ حکم کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے حسب ذیل قرار داد منظور کی۔( یہ قرارداد چوہدری محمد صدیق صاحب صدر عمومی لوکل انجمن احمدیہ نے پیش کی تھی۔) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب“ کے ضبط کئے جانے کے بارے میں حکومت مغربی پاکستان نے جو حکم دیا ہے۔ہم ممبران جماعت احمدیہ مقامی ربوہ اس کے خلاف پر زور احتجاج کرتے ہیں۔اس کتاب کی ضبطی کے بارہ میں جو وجہ بیان کی گئی ہے۔وہ حقائق پر مبنی نہیں۔یہ کتاب سب سے پہلے ۱۸۹۷ء میں شائع ہوئی تھی اور گزشتہ چھیاسٹھ سال میں اس کے کم از کم سات ایڈیشن اردو اور انگریزی شائع ہو چکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مختلف ممالک میں پھیل چکی ہے۔اور ہر زمانہ میں عیسائی مناد، مناظرین اور علماء کے زیر مطالعہ رہی ہے۔اسی طرح مختلف مواقع پر حکام کے سامنے بھی پیش ہوتی رہی ہے لیکن کبھی کسی موقعہ پر نہ عیسائی علماء کی طرف سے اور نہ عیسائی حکام کی طرف سے پچاس سالہ دور حکومت میں اسے فرقہ وارانہ کشیدگی یا منافرت کا باعث قرار دیا گیا۔پس حکومت کا یہ اقدام صحیح معلومات اور حقیقی وجوہات پر مبنی نہیں اور بے ضرورت ہے۔ہمارے نزدیک حکومت کا یہ اقدام غیر دانشمندانہ بھی ہے کیونکہ عیسائیت کا وہ زبر دست سیلاب جو انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان پر امڈا چلا آ رہا تھا اور عوام الناس تو کیا مسلمان شرفاء اور علماء کے گھرانے بھی اس کی زد سے محفوظ نظر نہیں آتے تھے اور لاکھوں مسلمان زادے عیسائیت کی آغوش میں چلے گئے تھے۔صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روحانیت اور علم کلام کی برکت سے رک گیا۔آپ نے نہ صرف اسلام کی طرف سے کامل دفاع کیا بلکہ عیسائیت پر ایسے زور دار حملے کئے کہ آج تک عیسائی مناد سر چھپاتے پھرتے ہیں۔آج اگر ہمیں اس سیلاب کا رخ بدلا ہوا نظر آتا ہے تو وہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی برکت اور آپ کے لٹریچر ہی کی بدولت ہے۔کیا