تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 361 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 361

تاریخ احمدیت۔جلد 22 361 سال 1963ء سیرالیون کے تعلیم یافتہ طبقے کس درجہ جماعت احمدیہ کے بلند پایہ لٹریچر سے متاثر ہورہے تھے۔اس کا اندازہ ملک کی ایک اہم عیسائی شخصیت مسٹر او با برائٹ (MR OBBA BRIGHT) کے تاثرات سے بخوبی لگ سکتا ہے۔انہوں نے اپنی نشریاتی تقریر میں فرمایا ” میں نے گذشتہ ہفتہ اپنے مقالہ میں چند شخصیتوں کا ذکر کیا تھا۔ان میں سے مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمد یہ بھی ہیں۔اس عظیم اسلامی مصنف کے لٹریچر نے جو اسلام کے مختلف پہلوؤں پر مشتمل ہے مجھے گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔میں نے یہ عزم کر لیا ہے کہ انہوں نے اسلامی تعلیم کو جس رنگ میں پیش کیا ہے۔آپ بھی میرے ساتھ نہ صرف اس کے مطالعہ میں شریک ہوں بلکہ لطف اندوز ہوں۔“ (ترجمہ) اس سال سیرالیون کے احمدی مبلغین کی طرف سے جن اہم شخصیات کو دینی لٹریچر تحفہ دیا گیا۔ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔آنریبل ایم ایس مصطفیٰ نائب وزیر اعظم۔وزیر مواصلات۔میئر آف فری ٹاؤن۔ڈپٹی ڈائریکٹر آف آڈٹ ڈیپارٹمنٹ سیرالیون کے پہلے گورنر سر ہنری جو سا یا لائٹ فٹ بوسٹن ( SIR HENRY JOSIAH LIGHT FOOT BOSTON)۔موصوف مغربی صوبہ کے دورہ پر آئے تو احمد یہ سکول بواجے بو میں بھی تشریف لائے۔اس موقعہ پر حافظ بشیر الدین عبیداللہ صاحب نے انہیں نیز دووزراء سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ افسروں کولٹر پچر پیش کیا۔یہ خبر ریڈیو نے بھی نشر کی۔نے تعلیمی ادارے: اس سال تین نئے پرائمری سکولوں کا افتتاح عمل میں آیا۔جس پر چیفس نے جماعت کی تعلیمی خدمات کو بہت سراہا۔احمد یہ سیکنڈری سکول کا افتتاح سیرالیون کے وزیر تعلیم نے کیا اور جماعت کی تبلیغی اور تعلیمی خدمات کی تعریف کی۔اس تقریب میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران علمی اداروں کے سر براہ اور شہر کے بااثر افراد کثیر تعداد میں شامل ہوئے۔تبلیغی سرگرمیاں: مولوی بشارت احمد صاحب بشیر نے بو، بواجے، بالا مہ، کینما، مکالی ، پیلے، کمارا بائی اور لونگ سر کا تبلیغی دورہ کیا۔مشن ہاؤس مرجع خلائق بنا رہا۔آنے والوں میں وزیر تعلیم، میئر آف فری ٹاؤن۔امریکن پیس کورٹ کا عملہ اور کالج کے طلباء بھی تھے۔جن سے مولوی بشارت احمد بشیر صاحب نے تبادلہ