تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 358
تاریخ احمدیت۔جلد 22 358 سال 1963ء اور متعدد دوسرے افراد شامل ہیں۔آج کل افریقہ میں چونکہ سوشلزم کی طرف بہت توجہ پائی جاتی ہے اس لئے ان سب کے سامنے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلام ہی آج وہ زندہ مذہب ہے جو انسانیت کو گمراہی ، ضلالت اور بے راہ روی کی مہیب اور اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر جادہ مستقیم پر ڈال سکتا ہے۔زائرین مشن کو ان کے میلان طبع کے مطابق لٹریچر بھی پیش کیا جا رہا ہے۔خدا تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور صراط مستقیم سے نوازے آمین۔احباب جماعت کو روزانہ قاعدہ میسرنا القرآن کے اسباق دیتا رہا جو احباب قرآن کریم کی تلاوت کے قابل ہو چکے ہیں۔ان کو قرآن کریم کی تلاوت میں مدد دیتا رہا۔اور ان کی تصحیح کرتا رہا۔جماعتی تربیت کے سلسلہ میں مختلف اوقات میں مختلف امور پر جماعت کی خصوصی توجہ مبذول کرتا رہا۔اللہ تعالیٰ احباب جماعت کو احمدیت پر صیح طور پر عمل کرنے کی اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے حقیقی اثمار سے صحیح طور پر بہرہ ور اور متمتع ہونے کی توفیق بخشے۔آمین اس دوران میں تمام جمعہ ہائے مبارکہ کے خطبات دیئے گئے جن میں احباب جماعت کی توجہ تربیتی امور کی طرف خاص طور پر مبذول کروائی گئی۔عرصہ زیر رپورٹ میں قریباً ڈیڑھ ہزار میل کا سفر کرنے کی توفیق ملی اور اس طرح مختلف سرکردہ شخصیات چیفس اور ان کے عملہ کے افراد، بعض سرکردہ مسلمان، جن میں ڈایا نگو کے دو معلم اور سو کوڑے کے چیف خاص طور پر قابل ذکر ہیں کو ملنے کا موقعہ ملا اور ان تک احمدیت کا پیغام پہنچانے کی توفیق پائی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولا کریم اپنا فضل فرمائے اور لوگوں کے قلوب کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی طرف مائل فرمادے۔الحمد للہ کہ خدا تعالیٰ نے گیارہ حق کی پیاسی روحوں کو حقیقی اسلام کے چشمہ سے سیراب ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ان میں خاص طور پر قابل ذکر مسٹر نمورد کرا موتو ہیں۔جو ٹو گو کی سابقہ حکومت میں وزیر زراعت کے عہدہ جلیلہ پر رہ چکے ہیں۔قریباً ۲ سال ہوئے کہ وہ کرسی وزارت پر متمکن تھے کہ ان سے ملاقات کی۔ان کولٹریچر پیش کیا اور وقتافوقتا ان سے ملتا رہا۔اور اس طرح ان پر احمدیت کی سچائی واضح کرنے کی کوشش کرتا رہا وہ بھی کتب اور لٹریچر کا مطالعہ کرتے رہے اور کافی عرصہ کی تبلیغ کے بعد آخر خدا تعالیٰ نے ان کے سینے کو حق کے لئے کھول دیا اور انہیں احمدیت میں شامل ہونے کی سعادت ملی۔50