تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 359 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 359

تاریخ احمدیت۔جلد 22 359 سال 1963ء جرمنی 66 فرینکفرٹ کے سب سے بڑے تعلیمی ادارہ کے ماہنامہ اور ترجمان "Dia Kurue" نے جنوری ۱۹۶۳ء کے پرچہ میں جناب مسعود احمد صاحب جہلمی کا انٹرویو شائع کیا جس میں ایڈیٹر نے جرمنی مشن کے بارہ میں لکھا ”یہ مشن انہی مشنوں کی ایک کڑی ہے جنہیں براعظم افریقہ میں افریقن باشندوں کو مسلمان بنانے میں عیسائی مشنوں کے مقابلہ میں دس گنا زیادہ کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔جناب جہلمی صاحب نے فرانکفرٹ میں مقیم ترکی جنرل قونصل کو انگریزی ترجمہ قرآن اور پاکستانی قونصل کو جرمن ترجمہ قرآن پیش کیا۔نیز ایران، ترکی، عرب کے بعض باشندوں کو سلسلہ احمدیہ سے متعارف کرایا۔آپ نے سیکنڈری سکول "Hessen Kaleg" کی سوسائٹی آف ہارمونک لائف میں اسلام کی نمائندگی کی اور ایک مبسوط مقالہ پیش کیا۔چوہدری عبداللطیف صاحب انچارج جرمنی مشن نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو دیا۔مسجد فضل عمر ہمبرگ میں آنے والے غیر مسلموں تک حق کی آواز پہنچائی اور لٹریچر تقسیم کیا۔فرینکفرٹ کی گوئٹے یونیورسٹی کے اور نشیل سیمینار میں اسلام کا ماضی، حال، مستقبل کے عنوان پر زبر دست لیکچر دیا اور سوالوں کے جواب دیئے۔چین 52 جناب مولوی کرم الہی صاحب ظفر مجاہد سپین نے سپین کے وزیر اطلاعات، وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل کے علاوہ ہسپانوی صوبوں کے تمام سول گورنروں کو اسلامی اصول کی فلاسفی“ اور اسلام کا اقتصادی نظام تحفہ بھجوائی۔۲۳ مارچ ۱۹۶۳ ء کو پاکستانی سفارت خانہ نے اپنا قومی دن منایا۔اس موقعہ پر آپ نے جن شخصیات تک پیغام حق پہنچایا۔ان میں صدر مملکت جنرل فرانکو کے امور عامہ کے چیف،وزارت خارجہ کے جنرل سیکرٹری مشہور ڈاکٹر سر جن سلمان ، میڈرڈ یونیورسٹی کے چانسلر، برطانوی ملٹری اتاشی ، یونان، شام، مراکش، الجیریا، تیونس، مصر، لبنان ، سعودی عرب اور لیبیا کے سفراء اور امریکہ ،ترکی ، بھارت اور جرمنی کے نمائندے شامل تھے۔