تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 355 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 355

تاریخ احمدیت۔جلد 22 355 سال 1963ء ۱۹۶۴ء میں ٹوگو لینڈ مشن نہایت برق رفتاری سے ترقی کی منازل طے کرنے لگا اور ملک کے اونچے طبقہ اور با اثر حلقوں تک تحریک احمدیت کی آواز پہنچنی شروع ہوگئی اور جناب قاضی مبارک احمد صاحب نے نہ صرف صدر مملکت بلکہ دوسری سر بر آوردہ شخصیات اور غیر ملکی سفراء سے بذریعہ ملاقات نہایت اثر انگیز رنگ میں حقیقی اسلام کا پیغام پہنچایا اور سلسلہ کا لٹریچر بھی پیش کیا۔اس سال مشن ہاؤس خاص طور پر زائرین کا خصوصی مرکز بنا رہا۔یہی نہیں ریڈیو سے احمدیت کی آواز ملک کے کونے کونے تک پہنچنے لگی اور ساتھ ہی نو مبائعین کی آمد میں بھی خوشگوار اضافہ ہوا۔اس اجمال کی تفصیل جناب قاضی مبارک احمد صاحب کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے:۔عرصہ زیر رپورٹ میں اللہ تعالیٰ نے خاکسار کو تو فیق عطاء فرمائی کہ ملک کی مقتدر شخصیتوں تک پیغام اسلام پہنچا کر ان کی خدمت میں اسلامی لٹریچر پیش کر سکے۔اس میں ٹوگو کی حکومت کے صدر مسٹر نکولس گرونشز کی، یہاں کے وزیر تجارت وصنعت ، مسٹرا گیمبیا، وزیر اطلاعات و نشریات اور پریس مسٹر ھولو من اتائی شامل ہیں۔ان کے علاوہ صدر حکومت کے چیف آف پروٹوکول، وزیر اطلاعات کے کیبنٹ کے ڈائریکٹر اور نائب ڈائریکٹر امریکہ، فرانس اور جرمنی کے سفراء ، یو این او کی طرف سے حکومت ٹوگو کے زرعی مشیر اور متعدد دیگر وزراء شامل ہیں۔صدر حکومت کو کتب پیش کرتے ہوئے خاکسار نے ان کے سامنے اس امر کو پیش کیا کہ آج دنیا میں ذرائع رسل وسائل اس قدر ترقی کر چکے ہیں کہ دنیا کے ایک ملک کی مشکلات سے دوسرے ملک کی بے نیازی ممکن نہیں اور مشکلات اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ انسانیت باوجود انتہائی مادی ترقی کے ان سے ترساں و خائف ہے۔اس لحاظ سے آج ہمارے لئے ضروری ہے کہ ان مشکلات سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہم ایک ایسا لائحہ عمل تلاش کریں جو ہماری راہ نمائی کر سکے۔ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ یہ ہدایت اور راہنمائی صرف اور صرف اسلامی تعلیمات کے ذریعہ ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔اور ان مشکلات ، مصائب اور خوف و خطر کا حل صرف اور صرف قرآنی ہدایت اور اسلامی قانون اور لائحہ عمل ہی پیش کرتا ہے اس لئے آپ سے گزارش ہے کہ ان کتب کا جو میں نے آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں بغور مطالعہ فرمائیں اور موازنہ کے بعد حق اور سچائی کو قبول کر کے خدا تعالیٰ کی مخلوق کے لئے ایک نہایت ہی مبارک اور مفید وجود ثابت ہوں۔اس پر صدر محترم نے فرمایا آپ جانتے ہیں کہ عیسائیت ہماری رگوں میں سرایت کر چکی ہے۔اس کے نقوش کو یک قلم پر دہ ذہن سے محو کر نا مشکل ہی نہیں بالکل