تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 356
تاریخ احمدیت۔جلد 22 356 سال 1963ء ناممکن ہے۔تاہم میں ان کتب کا گہری نظر سے مطالعہ کروں گا اور ان سے جو مفید مطالب حاصل ہوں گے۔ان پر ضرور عمل پیرا ہونے کی کوشش کروں گا۔وزیر تجارت و صنعت کو کتب پیش کرتے وقت ان کے سامنے قرآنی تعلیمات اور عیسائی تعلیمات کا مختصر سا موازنہ پیش کیا۔خاص طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیب پر وفات سے نجات، ان کا سفر کشمیر اور سرینگر میں ان کی وفات اور ان کی وہاں قبر کے موجود ہونے کے متعلق سن کر بہت حیران ہوئے اور کہنے لگے مجھے اس امر کا یقین نہیں آتا کہ ایسا ممکن ہے۔میں نے ان کے سامنے بائیبل اور اناجیل کے جب چند حوالہ جات پیش کئے تو بہت حیران ہوئے اور مجھ سے دریافت کیا کہ کیا میرے پاس اس مضمون پر کوئی مفصل کتاب ہے۔جس پر ایک دوسری ملاقات میں میں نے انہیں محترم مولانا شمس صاحب کی کتاب ” حضرت مسیح کہاں فوت ہوئے (انگریزی ) پیش کی بہت خوش ہوئے اور وہ اس کا بغائر نظر مطالعہ کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں ان سے ملکی حالات پر بھی گفتگو ہوتی رہی۔وزیر اطلاعات و نشریات اور پریس کو بھی لٹریچر پیش کیا گیا۔جس پر انہوں نے مطالعہ کا وعدہ کیا۔اور بعد میں ایک دو ملاقاتوں میں انہوں نے بتایا کہ وہ کتب کا مطالعہ کر رہے ہیں۔اس عرصہ میں شیخ میر محمد صاحب سفیر پاکستان برائے ٹو گو اپنے سیکرٹری عبدالرؤف کے ساتھ لولے تشریف لائے۔ان سے متعدد مرتبہ ملا اور پاکستان کے مفاد کے متعلق ان سے مختلف امور پر گفتگو ہوتی رہی۔ایسے ہی گورنمنٹ کے اخبار ٹو گو پریس کے ایڈیٹر سے ان کی ملاقات کا بندوبست کیا اور ان کی ترجمانی کا فریضہ بھی انجام دیا بہت خوش ہوئے۔پرنس صدر الدین آغا خاں صاحب اپنے افریقہ کے آفیشل دورہ کے دوران ٹو گو تشریف لائے ان سے ملاقات کی اور انہیں جماعتی لٹریچر اور ایک خط بھی پیش کیا۔جس میں ان سے لٹریچر کے مطالعہ کی درخواست کی۔ایسے ہی مسلمانوں کے اتحاد کے سلسلہ میں اپنے اثر و نفوذ کو استعمال کرنے کے متعلق گزارش کی۔اس کے جواب میں ان کا جو خط آیا۔اس کا ترجمہ ہدیہ قارئین کر رہا ہوں۔پرنس صدرالدین آغا خان صاحب کا خط چا تو دے بیلر یو۔جنیوا سوئٹزرلینڈ محترم قاضی صاحب آپ کے پیش کردہ خط اور دلچسپ کتب کے لئے بہت ممنون ہوں۔لومے میں تقلیل عرصہ قیام