تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 351
تاریخ احمدیت۔جلد 22 351 سال 1963ء ایک دستور پاس کیا جس کے تحت صدارتی طرز کی حکومت قائم ہوئی جس کے پہلے صدر مسٹر سلوانس المپیو (Sylvanus Olympio) تھے۔اس وقت سے ٹو گو ایک آزاد مملکت قرار پایا۔تیرہ جنوری ۱۹۶۳ء کو فوج نے پہلی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور صدر کوقتل کر دیا۔اس وقت سے ۵ مئی ۱۹۶۳ء تک ایک عبوری حکومت کام کرتی رہی۔۵ مئی ۱۹۶۳ء کے عام انتخابات کے ذریعہ با قاعدہ حکومت قائم ہوئی۔جس کے موجودہ صدر نکولس گرونٹر کی ہیں۔ٹوگو کی آبادی قریباً پندرہ لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔یہاں دار الحکومت لومے (Lome) ہے جو سمندری بندرگاہ بھی ہے اور ہوائی بھی۔لومے کی آبادی اسی ہزار کے قریب ہے۔ٹو گو میں ایک لاکھ کے قریب مسلمان ہیں دولاکھ عیسائی اور باقی باشندے یا تو لا مذہب ہیں اور یا بت پرست اور توہمات میں گرفتار ، جادو اور ٹونے ٹوٹکے کے دلدادہ۔ویسے تو عیسائیوں میں بھی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو ان چیزوں کے قائل اور اکثر کسی غیر مرئی فوق العادت طاقت کے خواہشمند ہیں جو انہیں ہر قسم کی آفات و مصائب سے محفوظ رکھتے ہوئے بغیر کسی محنت یا مشقت کے بام عروج تک پہنچاوے۔اسی وجہ سے ان میں تو ہم پرستی بہت ہے اور ہو بھی کیوں نہ جب ان کو ان کا اپنا مذہب کسی قسم کی تسکین اور اطمینان عطا نہیں کر سکتا تو پھر وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں نہ ماریں تو کیا کریں۔اکثر مسلمان علماء کے پاس آتے ہیں تا کہ تعویذ گنڈا حاصل کر سکیں۔مسلمان مالکی مذہب کے پیرو ہیں۔اکثر شمالی علاقوں میں رہتے ہیں۔علمی لحاظ سے پسماندہ ہیں۔اکثر حکومتی عہدے عیسائیوں کے قبضہ میں ہیں۔ٹو گو میں احمدیہ مشن کا افتتاح ۲ دسمبر ۱۹۶۰ء میں ہوا۔جب مکرم مرزا لطف الرحمن صاحب کو جرمنی سے منتقل کر کے ٹو گو میں مشن کھولنے کے لئے بھجوایا گیا تو مرزا صاحب ۲ دسمبر ۱۹۶۰ء کو ٹو گو میں وارد ہوئے۔مگر افسوس کہ بعض ناگزیر حالات کی وجہ سے ان کو زیادہ دیر کام کرنے کا موقعہ نہ مل سکا۔اور بیجوری حالات وه ۲۳ جون ۱۹۶۱ء کو ٹو گو سے غانا منتقل کر دیئے گئے۔اس کے بعد کافی تگ و دو اور جدو جہد کے بعد ٹو گو گورنمنٹ نے خاکسار کوٹو گو میں مشن کھولنے اور دو سال تک قیام کرنے کی اجازت دی جو یکم جنوری ۱۹۶۲ء سے شروع ہو کر ۳۱ دسمبر ۱۹۶۳ء کو ختم ہوتی ہے۔نقل مکانی اور بعض دیگر وجوہات کی بناء پر اصل کام مارچ ۱۹۶۲ء کے وسط سے شروع ہو سکا اور اس وقت سے اب تک خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے خاکسار فریضہ تبلیغ پر مصروف ہے۔جس کی مختصر سی رپورٹ ذیل میں پیش ہے۔