تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 350 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 350

تاریخ احمدیت۔جلد 22 350 سال 1963ء آپ نے جیل کے ساٹھ قیدیوں میں ایک تقریر کی اور اُن کے سوالوں کے جواب دیئے۔دوسرا وفد مولانا منور صاحب اور چوہدری عنایت اللہ صاحب پر مشتمل تھا جس نے موائزہ ، بکوبا، کبا روکا، کٹورو، کاما چوما، اور چبیرا کے غیر از جماعت دوستوں تک حق پہنچایا۔اور نشان زدہ مقامات پر تعلیمی اداروں سے بھی خطاب کیا نیز امر یا کمشنر سے تبادلہ خیالات بھی کیا۔ٹانگا، بکوبا، ارنگا، کمنڈی ، موشی اور سونگیا میں افریقن معلمین تندہی سے مصروف تبلیغ رہے۔اور متعد د عیسائیوں سے گفتگو کی اور سینکڑوں پمفلٹ تقسیم کئے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ٹانگا نیکا میں اس سال کم از کم ۶۴ را فراد داخل احمد بیت ہوئے۔ٹو گولینڈ جناب قاضی مبارک احمد صاحب سابق انچارج احمد یہ مشن ٹوگولینڈ مغربی افریقہ تحریر فرماتے ہیں:۔ٹو گوجغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے براعظم افریقہ کے مغربی حصہ میں خلیج بنین (Benin) کے کنارے پر واقع ہے۔یہ ملک شمالاً جنوبا قریباً چار سو میل لمبا ہے مگر چوڑائی کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ اکانوے میل اور کم از کم اکتیس میل کے فاصلے پر مشتمل ہے۔ٹوگو کی مغربی حدود غانا، مشرقی ڈاہومی ، شمالی اپر وولٹا اور جنوبی بحراوقیانوس میں خلیج چنین سے ملتی ہیں۔اس کا کل رقبہ قریباً ۲۰۴۰۰ مربع میل ہے۔یہاں کی حکومتی زبان فریج ہے۔سیاسی لحاظ سے ٹو کو مختلف ادوار سے گزرا ہے۔۵ جولائی ۱۸۸۴ء سے ۱۹۱۴ ء تک جرمنوں کے قبضہ میں رہا۔پہلی جنگ عظیم سے ٹوگو کی سیاسی حالت بھی متاثر ہوئی اور اس طرح ۱۹۱۴ء سے ۱۹۱۶ء تک فرانکو برٹش مشتر کہ کمان کے ماتحت آگیا۔۱۹۱۹ء میں عہد نامہ دار سیلز کے ذریعہ ٹو گوانگریزوں اور فرانسیسیوں کے درمیان تقسیم کر دیا گیا۔اس طرح ٹو گو کا مشرقی حصہ فرانسیسیوں کے ہاتھ لگا۔جواب ٹو گو کہلاتا ہے اور مغربی حصہ جو اس وقت غانا سے ملحق ہے۔انگریزوں کے ہاتھ آیا۔دوسری جنگ عظیم تک ٹوگو کے دونوں حصے مجلس اقوام League of Nations کے قانون Mandate کے مطابق انگریزوں اور فرانسیسیوں کے زیر انتظام ہیں۔۱۹۴۶ء میں یہ انتظام یو این کو منتقل ہوا جس نے ٹوگو کا انتظام فرانس کے سپر د کر دیا۔۱۹۴۶ء سے ۱۹۵۸ء تک کا بارہ سال کا عرصہ ٹوگو کی سیاسی زندگی میں کافی نشیب وفراز کا حامل ہے۔۱۹۵۸ء کے عام انتخابات کے ذریعہ جب ملکی افراد برسر اقتدار ہوئے تو قومی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔۹ را پریل ۱۹۶۱ ء کو عام استصواب کے ذریعہ ٹوگو کے باشندوں نے