تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 21
تاریخ احمدیت۔جلد 22 21 کتاب ” سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب کی ضبطی۔زبر دست عالمی احتجاج اور حق و انصاف کی فتح سال 1963ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام ، قرآن مجید اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں ۲۲ جون ۱۸۹۷ء کو کتاب ” سراج الدین عیسائی کے چارسوالوں کا جواب‘ تصنیف فرمائی۔قیام پاکستان تک اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے لیکن اس سارے عرصہ میں عیسائی حکومت نے اسے لائق تعزیر نہیں گردانا۔قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۱ء میں بھی یہ چھپی، اس وقت بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔برصغیر پاک و ہند کے علاوہ غیر ملکی زبانوں میں بھی یہ کتاب ممالک غیر میں شائع ہوئی اور کسی جگہ اسے ضبط نہیں کیا گیا اور نہ اسے امن عامہ کے منافی تصور کیا گیا۔الغرض اس پُر معارف کتاب سے دنیا کے کسی خطہ میں کوئی تلخی اور کشیدگی پیدا نہیں ہوئی۔ان حقائق کے باوجود حکومت مغربی پاکستان نے ۷ار اپریل ۱۹۶۳ء کے ایک غیر معمولی گزٹ کی رو سے اسے بحق سرکار ضبط کر لیا اور اس سراسر غیر منصفانہ اور غیر دانشمندانہ اقدام کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ اس سے عیسائیوں کی دل آزاری ہوتی ہے اور دونوں فرقوں کے درمیان کشیدگی سے ملکی فضا کے مکدر ہونے کا امکان ہے۔اُن دنوں فروغ عیسائیت کی خبروں سے پورے ملک میں اضطراب و تشویش پھیلی ہوئی تھی حتی کہ اسمبلی میں یہاں تک مطالبات کئے جارہے تھے کہ عیسائی مشنریوں پر پابندی عائد کردینی چاہیئے اور ان کے تعلیمی اور معالجاتی اداروں کو سر بمہر کر دینا چاہیئے مگر افسوس حکومت مغربی پاکستان نے اس مقدس تحریر پر پابندی عائد کر دی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیت کے سیلاب کو روکنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور قرآن کی عظمت شاں کو اجاگر کرنے کے لئے رقم فرمائی۔اس موقعہ پر پاکستان اور دنیا بھر کی جماعت ہائے احمدیہ کا رد عمل نہایت شدید اور اپنی نظیر آپ تھا۔ان کا مضطرب اور بے چین ہونا ایک طبعی امر تھا کیونکہ انہیں عیسائیت سے لڑی جانے والی تبلیغی جنگ کے دوران معین میدان کارزار میں ایک نہایت اہم اور موثر ترین روحانی ہتھیار سے محروم کر دیا گیا تھا۔یہی وجہ تھی کہ ضبطی کی جگر پاش اور اندوہناک خبر پر شرق وغرب اور عرب و عجم کی احمدی