تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 20 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 20

تاریخ احمدیت۔جلد 22 20 سال 1963ء شاہ ذی شان کا ہی نہیں بلکہ اپنے ایک دوست کا بھی خیر مقدم کر رہا ہوں۔آپ نے مزید فرمایا یہ مجیب حسن اتفاق ہے ایسے خوشگوار موقعہ پر جبکہ شاہ مراکش یہاں تشریف لائے ہیں باری کے لحاظ سے افریقی ایشیائی گروپ کے اجلاس میں صدارت کے فرائض کی انجام دہی پاکستان کے حصہ میں آئی ہے۔شاہ حسن صاحب نے جوابی تقریر میں فرمایا کہ:۔”میرے والد محترم کی طرح اہل مراکش محترم جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں کے ہمیشہ ممنون احسان رہیں گے کیونکہ ایسے وقت میں کہ جب چند ایک کے سوا مراکش کا کوئی دوست نہ تھا۔یہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان ہی تھے کہ جنہوں نے مراکش کی حمایت میں آواز بلند کی اور اس کے مفاد کے لئے سینہ سپر ہوئے۔“ نیز شاہ نے کہا کہ یو این او کے سیکرٹری جنرل اور جنرل اسمبلی کے صدر دونوں ایشیاء سے تعلق رکھتے ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ افریقی ایشیائی گروپ کو یو این او میں کتنا نمایاں اور بلند مقام حاصل ہو چکا ہے۔آخر میں جناب چوہدری ظفر اللہ خان نے شاہ مراکش کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ شاہ حسن کا کام افریشیائی گروپ کے لئے حوصلہ افزائی کا سبب ہے۔ضلع لاڑکانہ اور ضلع نواب شاہ کے اجتماعات اور صدر مجلس انصاراللہ کے پیغامات اس سال ۱۶، ۱۷ مارچ ۱۹۶۳ء کو رحیم آباد میں اور ۱۳۔۱۴ را پریل ۱۹۶۳ء کو مسن باڈہ میں بالترتیب ضلع نواب شاہ اور ضلع لاڑکانہ کی مجالس انصار اللہ کے کامیاب اجتماعات ہوئے۔صدر مجلس انصار اللہ مرکزیہ (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنی طرف سے اور مجلس مرکزیہ کی طرف سے شیخ محبوب عالم صاحب خالد قائد عمومی کو اجتماع ضلع نواب شاہ کے لئے بطور نمائندہ بھجوایا اور اجتماع کے لئے ایک خصوصی پیغام دیا جس میں قرآن مجید اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک ملفوظات کے پیش نظر تلقین فرمائی کہ اتحاد و اتفاق کی نعمت کی ہمیں دل سے قدر کرنی چاہیئے۔اور کوئی ایسی حرکت سرزد نہیں ہونی چاہیئے جس سے اس کو ٹھیس لگے۔اسی طرح آپ نے انصار اللہ ضلع لاڑکانہ کو بھی نصیحت فرمائی کہ وہ رشتہ اخوت کو مضبوط سے مضبوط تر کریں اور سلسلہ کے عہدیداروں سے ہر طرح تعاون کرتے ہوئے ان کی ہدایات پر عمل پیرا ہوں۔