تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 342 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 342

تاریخ احمدیت۔جلد 22 342 سال 1963ء کا معیار بہت عمدہ تھا۔خصوصاً آٹھویں جماعت کا جس کا امتحان کراچی بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن نے لیا اور نتیجہ سو فیصدی رہا۔پرائمری سکول کو تیسرے سال محکمہ تعلیم نے منظور کر لیا مگر سیکنڈری سکول کو منظور (Recognise) کرانے کی مساعی کامیاب نہ ہو سکی۔اس لئے اُس کو مجبور ابند کر دینا پڑا۔احمد یہ حلقہ قادیان کے معاملہ میں مفاہمت یکم ستمبر ۱۹۶۳ء کوصدرا انجمن احمد یہ بھارت کے نمائندہ کی حیثیت سے محترم شیخ عبدالحمید صاحب عاجز ناظر بیت المال اور محترم ملک صلاح الدین صاحب دہلی تشریف لے گئے جہاں انہوں نے ۴ ستمبر کو جنرل شاہنواز خاں (مرکزی وزیر ) اور سوتری پرشاد (ڈپٹی سیکرٹری محکمہ بحالیات) سے ملاقات کی۔انہوں نے انجمن کی طرف سے پانچ سالوں میں احمد یہ امر یا قادیان کی مقررہ قیمت ۲ لاکھ چوبیس ہزار سات سو روپیہ کی ادائیگی پر رضامندی کا اظہار کیا۔اور یہ معاملہ ہمیشہ کے لئے طے ہو گیا۔دہلی سے واپسی پر ۰ استمبر کو محترم عاجز صاحب اور چوہدری سعید احمد صاحب نے جالندھر میں محکمہ بحالیات کے آرایم او کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کی تکمیل کی اور پہلے سال کی قسط کی رقم مبلغ چوالیس ہزارنوسو چالیس روپے بذریعہ سٹیٹ بنک جالندھر جمع کرادی۔ربوہ میں ایک مشترکہ تربیتی اجلاس مجلس انصار اللہ ربوہ ، احمد نگر اور چنیوٹ کا ایک مشترکہ اجلاس ۱۹ ستمبر ۱۹۶۳ء کو دفتر انصار الله مرکز یہ کے احاطہ میں منعقد ہوا۔اس اجلاس سے مولوی قمر الدین صاحب زعیم اعلیٰ ربوہ، مولانا ابوالعطاء صاحب قائد تربیت اور صاحب صدر مولانا جلال الدین صاحب شمس نے بالترتیب مندرجہ ذیل موضوعات پر خطاب فرمایا۔انصار اللہ کے فرائض، نماز با جماعت کی بنیادی اہمیت، قرآن مجید کا علم حاصل کرنے کی بے انداز افادیت۔جماعت احمدیہ کراچی کا پہلا جلسہ سالانہ قیام پاکستان کے بعد جماعت احمدیہ کراچی کا پہلا جلسہ سالانہ ۲۳ نومبر ۱۹۶۳ء کواحد یہ ہال میں منعقد ہوا۔مرکز سے مکرم مولانا جلال الدین شمس صاحب ناظر اصلاح و ارشاد، مکرم مولا نا ابوالعطاء