تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 341 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 341

تاریخ احمدیت۔جلد 22 341 سال 1963ء کو بعد نماز جمعہ جلسہ عام کی کارروائی شروع کر دی۔جلسہ گاہ اور سٹی کو رنگا رنگ جھنڈیوں اور قطعات سے سجایا گیا تھا۔علماء کرام نے سیرت النبی کے مختلف عنوانات پر دو دن تک مسلسل چارا جلاسوں میں ایمان افروز اور ولولہ انگیز تقاریر کیں۔لوگوں کے مختلف سوالات کے جوابات دیئے گئے۔اتحاد بین المسلمین کی اہمیت بھی واضح کی گئی۔مستورات کے علاوہ حاضرین کی کافی تعداد تھی۔درہ شیر خان، میر پور، آرام باڑی، چر ناڑی، دلیا جٹاں وغیرہ دیہات سے بھی لوگ جلسہ سننے کے لئے آئے تھے۔غیر احمدیوں نے بھی بڑی دلچسپی سے تقاریر کوسنا اور پہلی دفعہ احمدی علماء کی پر مغز ، روح پرور اور با ہمی صلح وامن کی تقاریر اور سوالات کے جوابات سُن کر انہیں بڑا اطمینان ہوا اور جو کچھ انہوں نے مولویوں سے جماعت احمدیہ کے عقائد کے بارے میں سُنا تھا۔وہ سراسر غلط نکلا۔اور اُن کی بہت سی غلط فہمیاں دور ہو گئیں اور علاقہ میں توقع سے بڑھ کر اثر ہوا۔دولیاہ جٹاں میں جلسہ کوٹلی کے عظیم الشان جلسہ کے بعد ۲۷ مئی ۱۹۶۳ء کو دولیاہ جٹاں علاقہ راجدھانی میں زیر صدارت راجہ کفایت علی صاحب (غیر از جماعت) ممبر یونین کونسل جلسہ منعقد ہوا۔اس جلسہ میں مکرم مولا نا دوست محمد شاہد صاحب اور خاکسار ( مراد قریشی اسد اللہ صاحب) نے سیرت النبی اور صداقت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام پر تقاریر کیں۔ایک غیر از جماعت دوست نے ظہور مہدی کے بارے میں سوالات کئے۔اُن کے جوابات بھی جلسہ میں دیئے گئے۔جس سے عام غلط فہمیاں دُور ہوئیں۔رات کو بعد نماز عشاء تربیتی اجلاس ہوا۔جو مردوں کے علاوہ احمدی مستورات کے لئے بھی ازدیاد ایمان کا باعث بنا۔راجدھانی سے دولیاہ جٹاں کو ۵/ ۶ میل پیدل راستہ دشوار گزار پہاڑیوں اور چٹانوں سے ہو کر جاتا ہے۔ہم نے آنے جانے کا سفر کچھ گھوڑوں پر اور کچھ پیدل طے کیا۔اس جگہ علاقہ را جوری کے احمدی مہاجر خاندان آکر آباد ہوئے ہیں۔انہوں نے اپنی مسجد بھی تعمیر کر لی ہے۔“ کراچی میں پرائمری سکول کا اجراء اس سال جماعت احمدیہ کراچی کے زیرا نتظام دوسکول تعلیم الاسلام پرائمری اور تعلیم الاسلام سیکنڈری سکول کے نام سے عزیز آباد میں جاری ہوئے۔پہلے تعلیمی سال سے ہی ان سکولوں کے نتائج