تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 337
تاریخ احمدیت۔جلد 22 337 سال 1963ء دعا کرتے رہو ہر دم پیارو اگر اس محل کو طالب لگائے ہدایت کے لئے حق کو پکارو تو اک دن ہو رہے پر تھا نہ جائے جی دعا کرنا عجب نعمت ہے پیارے ہمارا کام تھا وعظ و منادی دعا سے آ لگے کشتی کنارے سو ہم سب کر چکے واللہ ہادی ضائع الراقم مرزا غلام احمد رئیس قادیان - الثامن من الشهر المبارك المحرم باركه الله لجميع المومنين ۱۲۹۵ هجری المقدس علی صاحبہ الصلوۃ والسلام۔(اس اخبار کی ایک کاپی شعبہ تاریخ احمدیت میں محفوظ ہے) قادیان کی میونسپل کمیٹی میں احمدی ممبران چوہدری بدرالدین صاحب عامل درویش بھٹہ قادیان کا بیان ہے کہ:۔۱۹۴۷ء سے قبل جب ۱۹۴۵ء میں قادیان میں میونسپل کمیٹی بنی تو اس وقت واقعی یہی حال تھا کہ قادیان میں احمدیہ جماعت کی غالب اکثریت تھی اور احمدی ممبران جو جماعت نامزد کرتی تھی وہ بلا مقابلہ ہو جاتے تھے۔اور غیر مسلم ممبر بھی کسی وارڈ میں اتنی تعداد میں نہیں تھے کہ مقابلہ کی صورت پیدا ہوتی ان میں سے بھی ان افراد کے مشورے سے جن کے کاغذات داخل کرائے گئے وہ بلا مقابلہ چن لئے گئے۔ایک ممبر ہندو بھائیوں میں سے اور ایک ممبر سکھ بھائیوں میں سے تجویز ہوا تھا۔اور جماعت کی تائید سے چن لیا گیا تھا۔احمدی ممبران میں مکرم و محترم حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ ممبر بنے تھے۔۱۹۵۵ء میں آزادی کے بعد پہلی بار میونسپل کمیٹی کے انتخابات ہوئے اس وقت ہمارے اپنے ووٹ صرف ساڑھے چار سو تھے۔یادر ہے کہ ہر میونسپل حلقہ بارہ سو سے لے کر ڈیڑھ ہزار ووٹوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ہماری کسی بھی وارڈ میں اکثریت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا مزید یہ کہ ہمارے ووٹ تین وارڈوں میں بٹ گئے ہوئے تھے۔سب سے زیادہ جس وارڈ میں تھے اس میں اپنے ووٹوں کی تعداد تین صد کے قریب تھی۔بہت سخت مقابلہ تھا۔اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے اس مقابلہ میں حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ کامیاب ہوئے آپ کے مقابل پر حکیم پریتم سنگھ بھائیہ برادر اکبرحکیم سوہن سنگھ تھے۔انہیں شکست ہوئی۔