تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 338
تاریخ احمدیت۔جلد 22 338 سال 1963ء دوسری مرتبہ انتخابات ۱۹۶۰ء میں ہونا تھے مگر بعض وجوہ کی بنا پر ملتوی ہوکر ۱۹۶۳ء کے شروع میں ہوئے اس وقت بھی تکونہ مقابلہ تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مولوی صاحب ہی کامیاب ہوئے۔پھر ۱۹۶۹ء ماہ جون میں انتخابات ہوئے تو اس موقعہ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب کو انتخابات لڑنے کی اجازت نہیں ملی اور جماعت کی طرف سے خاکسار کا نام اول نمبر پر اور ممتاز احمد صاحب ہاشمی کا نمبر دو کنڈیڈیٹ کے طور پر داخل کرایا گیا۔( حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ کی وفات جنوری ۱۹۷۷ ء میں ہوئی اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ آپ تاحیات ممبر رہے ) میرے مقابلہ پر بھی اور سکھ بھائی کھڑے تھے۔اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے میں کامیاب ہوا اور پھر مسلسل اگلے دو انتخابات میں کامیاب ہوتا رہا بلکہ ۱۹۷۷ء میں جو انتخابات ہوئے اس میں مکرم سردار تربت راجندر سنگھ باجوہ میرے مقابل پر کھڑے تھے۔اس طرح ۱۹۶۹ء سے لے کر فروری ۱۹۹۲ء تک مسلسل ۲۲ سال تک خاکسارایم سی رہا۔۱۹۹۲ء میں مکرم چوہدری منصور احمد صاحب چیمہ ایم سی ہوئے۔اور پانچ سال چند ماہ ایم سی رہے۔ازاں بعد انتخابات میں مکرم مولوی سعادت احمد صاحب جاوید ممبر ہوئے جن ایام میں خاکسار ممبر تھا، ریتی چھلہ میں بن رہی دکانات کو گرانے اور میونسپل کمیٹی میں معاملہ پیش کر کے اسے شاملات قرار دے کر میونسپل کمیٹی کی ملکیت بنانے کی کوشش کی گئی اور اس فیصلہ کو باوجودا قلیت رائے کے پوائنٹ آف آرڈر کے ذریعہ پاس کر کے رجسٹر فیصلہ جات کو ہی ایک شخص چھین کر بھاگ گیا۔جس پر اکثریتی پارٹی نے خاکسار کو صدر چن کر نئے رجسٹر پر کی گئی کارروائی کی مذمت کی اور ریتی چھلہ کو جماعت کی جائز ملکیت قرار دیا اور اس کی نقول ڈی سی گورداسپور چنڈی گڑھ متعلقہ منسٹری کو بھجوائی گئی۔آخر فیصلہ جماعت کے حق میں ہوا ملک کی آزادی کے بعد پہلا موقعہ آیا کہ ہمارے وارڈ کا کینڈیڈیٹ بلا مقابلہ جیتا۔اور ایک مزید نمبر اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت سے کامیاب ہوا۔الحمد للہ علی ذالک قادیان کا ایک وفد جنوبی ہند میں 22 اس سال ایک مرکزی وفد نے جو حسب ذیل ممبران پر مشتمل تھا یکم مارچ سے ۱۰ر اپریل ۱۹۶۳ء تک جنوبی ہند کا تبلیغی و انتظامی دورہ کیا۔مولانا شریف احمد امینی صاحب، مولوی سمیع اللہ