تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 336
تاریخ احمدیت۔جلد 22 336 سال 1963ء اگر ہر ذرہ اس میں خود عیاں ہو جب اس نے ان کی گنتی بھی نہ جانی تو ہر ذرے کا وہ مالک کہاں ہو کہاں من من کا ہو انتر گیانی اگر خالق نہیں روحوں کی وہ ذات اگر آگے کو پیدائش ہے سب بند تو پھر کاہے کی ہے قادر وہ ہیہات تو پھر سوچو ذرا ہو کر خردمند خدا پر عجز و نقصاں کب روا ہے کہ جس دم پا گئی مکتی ہر اک جان ہے دین یہی پھر کفر کیا ہے تو پھر کیا رہ گیا ایشر کا سامان اگر اگر اس بن بھی ہو سکتے ہیں اشیا کہاں سے لائے گا وہ دوسری روح تو پھر اوس ذات کی حاجت رہی کیا که تا قدرت کا ہو پھر باب مفتوح اگر سب شے نہیں اوس نے بنائی غرض جب سب نے اس مکتی کو پایا تو بس پھر ہو چکی اس سے خدائی تو ایشر کی ہوئی سب ختم مایا اگر اوس میں بنانے کا نہیں زور تناسخ اڑ گیا آئی قیامت تو پھر اتنا خدائی کا ہے کیوں شور کرو کچھ فکر اب حضرت سلامت وہ ناکامل خدا ہو گا کہاں کہ عاجز ہو بنانے جسم وجاں ہے عزیز و کچھ نہیں اس بات میں جاں ہے تو دکھلاؤ بمیداں اگر کچھ ذرا سوچو کہ وہ کیسا خدا ہے بہت ہم نے بھی اس میں زور مارا کو جانچا ہے سارا کہ جس سے جگت روحوں کا جدا ہے خیالستان سدا رہتا ہے ان روحوں کا محتاج مگر ملتی نہیں کوئی بھی برھان انہیں سب کے سہارے پر کرے راج بھلا سچ کس طرح ہو جائے بہتان جسے حاجت رہے غیروں کی دن رات نہ ہوگا کوئی ایسا مت زمین پر بھلا اس کو خدا کہنا ہے کیا بات کہ یہ باتیں کہیں جاں آفرین پر