تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 335
تاریخ احمدیت۔جلد 22 335 سال 1963ء سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک نادر و نایاب نظم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی یہ نظم اخبار منثور محمدی بنگلور ۱۵ ربیع الثانی ۱۲۹۵ هجری ۹ مئی ۱۸۷۸ء میں پہلی دفعہ شائع ہوئی۔جس کا عنوان تھا۔نیاز نامہ متعلقہ جواب الجواب عزیز و دوستو بھائیو سنو بات بھلا تم خود کہو انصاف سے صاف خدا بخشے تمہیں عالی خیالات کہ ایشر کی یہی لائق ہیں اوصاف ہمیں کچھ کیں نہیں تم سے پیارو کہ کر سکتا نہیں اک جاں کو پیدا نہ کیس کی بات ہے تم خود بیچارو نہ اک ذرہ ہوا اوس سے ہویدا اگر کھینچے کوئی کہنے کی تلوار نه ان بن چل سکے اس کی خدائی تو اس سے کب ملے کچھڑا ہوا یار نہ ان دن کر سکے زور آزمائی غرض پندو نصیحت ہے نہ کچھ اور نظر سے اس کے ہوں مجوب و مکتوم خدا کے واسطے تم خود کرو غور نہ ہو تعداد تک بھی اس کو معلوم کہ گر ایشر نہیں رکھتا یہ طاقت معاذ اللہ یہ سب باطل گماں ہے کہ اک جاں بھی کرے پیدا بقدرت وہ خود ایشر نہیں جو ناتواں ہے تو پھر اوس پر خدائی کا گمان کیا اگر بھولے رہے اس سے کوئی جاں وگر قدرت پھر وہ ناتوان کیا ہے تو پھر ہو جائے اوس کا ملک ویراں ہے کہاں کرتی ہے عقل اس کو گوارا پیارو یہ روا ہرگز نہیں ہے کہ پن قدرت ہوا یہ جگت سارا خدا وہ ہے جو رب العالمیں وگر تم خالق اس کو مانتے ہو ایسی بات مونہہ سے مت نکالو تو پھر اب ناتوان کیوں جانتے ہو خطا کرتے ہو ہوش اپنے سنبھالو