تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 316 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 316

تاریخ احمدیت۔جلد 22 316 سال 1963ء ۱۹۶۳ء میں وفات پانے والے مخلصین جماعت ۱۹۶۳ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعدد صحابہ کرام کے علاوہ بہت سے مخلصین جماعت بھی وفات پاگئے۔جن میں سلسلہ اور خلافت سے فدائیا نہ تعلق رکھنے والی خواتین بھی تھیں جیسا کہ ذیل کی تفصیلات سے معلوم ہوگا۔مسٹر مبارک احمد فرائی سوئٹزرلینڈ کے سب سے پہلے احمدی تھے۔باقاعدگی سے چندہ ادا کرتے تھے تبلیغ کا بہت شوق تھا۔حضرت مصلح موعود جب دوبارہ یورپ تشریف لے گئے تو آپ کو متعدد بار حضور کی معیت کا شرف حاصل ہوا۔۱۵ جنوری ۱۹۶۳ء کو وفات پائی۔181 حضرت سیدہ عائشہ بیگم صاحبہ ( والدہ ماجدہ حضرت سیدہ ام وسیم صاحبہ ) ولادت ا۱۸۷ء وفات : ۲۴ مارچ ۱۹۶۳ء 182 آپ حضرت سیٹھا ابوبکر یوسف صاحب آف جدہ کی اہلیہ تھیں، حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی خوش دامن تھیں اور مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب اور مکرم صاحبزادہ مرزا نعیم احمد صاحب کی نانی صاحبہ تھیں۔اسی طرح مکرم شیخ بشیر احمد صاحب سابق جج لاہور ہائیکورٹ آپ کے داماد تھے اور مکرم کمال یوسف صاحب سابق مجاہد سکینڈے نیویا ممالک آپ کے پوتے ہیں۔محترمہ محمد الہی بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی مرحومہ اس وقت احمدی ہو ئیں جبکہ ان کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔جس کی وجہ سے ان کو اپنے والد کی نہایت درجہ بختی کا شکار ہونا پڑا۔جو احمدیت کے اشد مخالف تھے۔قرآن کریم کا بہت سا حصہ یاد ا۔تھا ادب زبان محاورات اور ضرب الامثال میں ان کی واقفیت حیرت انگیز تھی۔۲۹ جنوری ۱۹۶۳ء کو وفات پائی۔183 پیر زمان شاہ صاحب مانسہرہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں :۔پیر زمان شاہ صاحب مخلص احمدی تھے۔