تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 315
تاریخ احمدیت۔جلد 22 315 سال 1963ء عالی بود دیوانش هنوز بچاپ نرسیده است اما اشعاری چند در زیر نقل میگردد که در مدح یکی از دوستان عزیز خود سروده است: میر صاحب محمد اسماعيل آنکه می بود همچو ابن خلیل وصف او در بیان نمی گنجد گر بیانش کنیم بالتفصيل فطرتش فطرت همه ابرار قدسیان را شده دلش منزل ذات او متصف بوصف جميل عارفان را برسم او تبتیل منزل قدس بود منزل او بر زبانش حقایق از تنزیل 1 اولاد: اقبال احمد صاحب را جیکی (وفات ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء) صفیہ بیگم صاحبہ (وفات ۱۴ نومبر ۱۹۸۲ء) مصلح الدین احمد صاحب را جیکی ( وفات ۲۶ فروری ۱۹۵۹ء) زینب قدسیہ صاحبہ (وفات ۲۵ جولائی ۱۹۸۲ء) 179 مولوی برکات احمد صاحب را جیکی بی اے ناظر امور عامه قادیان (وفات ۱۷نومبر ۱۹۶۳ء) مولوی مبشر احمد صاحب را جیکی (وفات ۳ فروری ۱۹۸۷ء) عزیز احمد صاحب را جیکی (وفات ۳ را پریل ۱۹۸۰ء) حضرت الحاج شیخ منظور علی صاحب لدھیانوی ولادت: ۱۸۸۷ء۔بیعت : ۱۸۹۸ء وفات: ۲۷ دسمبر ۱۹۶۳ء۔آپ نے ۱۸۹۸ء میں لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دستی بیعت کی توفیق پائی۔بہت مخلص فدائی اور دعا گو بزرگ تھے۔۲۸ دسمبر کو آپ کی نماز جنازہ مکرم مولانا جلال الدین شمس صاحب نے پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین کے بعد حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحب نے دعا کروائی۔اولاد : (صاحبزادگان) ڈاکٹر عبداللطیف صاحب عدن۔عزیز احمد شیخ صاحب کراچی۔ڈاکٹر شمیم احمد شیخ صاحب لندن۔ڈاکٹر اختر احمدر بوہ۔مشتاق احمد شیخ صاحب ربوہ۔اس کے علاوہ تین بیٹیاں ہیں۔10 180-