تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 314
تاریخ احمدیت۔جلد 22 314 سال 1963ء 175 174 صاحب ایڈیٹر بدر نے اسے پہلی بار رسالہ کی صورت میں شائع کیا۔گلدستہ رسالت۔ڈھولا احمدی۔قادیانی لعل نصیحت نامه بطرزسہاگ۔ایہ پاک زمانہ آیا۔تحفۃ المشتا قین۔(اردو): رسالہ ”اب یا رب ( سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الاول نے اسے بہت پسند فرمایا اور اظہار خوشنودی کے طور پر انعام سے بھی نوازا اور اس کے بہت سے نسخے مشہور اور نامی گرامی عیسائیوں اور پادریوں کو بھجوائے۔اظہار حقیقت (مطبوعہ امرتسر )۔مباحثہ احمدیان و غیر احمدیان امرتسر۔توحید باری تعالیٰ۔کشف الحقائق بجواب حقائق القرآن - تاویل المتشابہات۔نبوت مسیح موعود۔مباحثہ لاہور (۲۶ تا ۲۸ جون ۱۹۲۱ء) التنقيد و الخبر الصحيح عن قبر المسیح (اپریل ۱۹۲۲ء)۔رقیمۃ المواسات۔احمدیت کی فاتحانہ عظمت و جلالت۔حیات قدسی حصہ اول جنوری ۱۹۵۱ء، دوم ستمبر ۱۹۵۱ء ،سوم جنوری ۱۹۵۴ء، چہارم ستمبر ۱۹۵۵ء، پنجم مئی ۱۹۵۷ء۔چشمہ توحید (افاضات حضرت مولانا را جیکی صاحب) ۱۹۷۳ء۔فیضان نبوت (افاضات حضرت مولا ناراجیکی صاحب) ۱۹۷۸ء۔(عربی): بے نقط قصیده (۱۹۰۵ء)۔کلمۃ الفضل ( مترجم اردو) غیر مطبوعہ: (اردو)۔المقالات القدسیہ فی الافاضات الاحمدیہ ( ۹ مجلدات) کتاب ”تذکرہ شعرائے پنجاب میں حضرت راجیکی صاحب کا ذکر جناب خواجہ عبدالرشید صاحب نے اپنی کتاب ”تذکرہ شعرائے پنجاب میں ۲۸۸ نمبر پر حضرت مولانا صاحب کی نسبت درج ذیل نوٹ سپرد قلم کیا ہے۔(۲۸۸) مولانا غلام رسول گجراتی مولانا غلام رسول پسر میان کرم دین در دهی بنام راجیکی از نواحی شهر گجرات در سال ۱۸۷۷ میلادی متولد گردید و فارسی از میان محمد دین کشمیری آموخت و سکندر نامه و آثار نثری ابوالفضل را هم در خدمت استاد خود یاد گرفت سپس بحضور مولانا امام دین رسیده مثنوی مولانا روم را یاد گرفت تصانیف متعددی دارد که عبارتند از: حيات قدسی، اظهار حقیقت توحید باری تعالی ، تنقيد الحقايق وغيره اشعار خوبی را بزبان فارسی میسرود و دارای ذوقی بسیار لطیف و