تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 313
تاریخ احمدیت۔جلد 22 313 سال 1963ء تبلیغ حق (۱۹۱۲ء) ، اصحاب الفیل (۱۹۱۵ء ) ( پنجابی تقریر)، تقریر (۱۹۱۲ء) ، غیر مبائعین کے بعض اعتراضوں کے جوابات (۱۹۱۷ء) ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مسلمانوں پر احسانات (۱۹۱۸ء)، پیشگوئی اور اس کی حقیقت (۱۹۱۹ء)، غیر مبائعین کے اختلافات (۱۹۲۰ء)، نبوت پر مولوی محمد علی مونگھیری کے اعتراضات کے جوابات (۱۹۲۱ء)، تقریر (۱۹۲۲ء) ، حضرت مسیح موعودؓ کی بعض پیشگوئیاں سیدنامحمود کی نسبت (۱۹۲۴ء)، صداقت مسیح موعود (۱۹۲۶ء)، صداقت مسیح موعود (۱۹۲۷ء ) ، حضرت مسیح موعود اور غیر مبائعین (۱۹۲۸ء)، ختم نبوت (۱۹۲۹ء)، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس نئے رنگ میں پیش کیا ( ۱۹۳۰ء)، توحید کے متعلق اسلامی نقطہ نظر بمقابلہ دیگر مذاہب (۱۹۳۱ء)، فلسفه احکامِ شریعت (۱۹۳۲ء)، مسئلہ خلافت کے سلسلہ میں اختلافات کا ظہور اور اس کے انسداد کے لئے حضرت خلیفہ اسیح الاول اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی مساعی جمیلہ (۱۹۳۳ء) حضرت مسیح موعود کا علم کلام (۱۹۳۴ء)، صداقت حضرت مسیح موعود (۱۹۳۵ء)، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئیاں جو حضرت مسیح موعود کی آمد سے پوری ہوئیں (۱۹۳۶ء)، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم (۱۹۳۷ء)، فلسفہ مسائل حج (۱۹۳۸ء)، حضرت مسیح موعود کے کارنامے (۱۹۳۹ء)، اجرائے نبوت کے فوائد اور انقطاع نبوت کے نقصانات (۱۹۴۰ء)، آیت خاتم النبین کی تشریح (۱۹۴۱ء)، فلسفہ قربانی ( ذبیحہ ) (۱۹۴۲ء)، فلسفه احکام نماز (۱۹۴۴ء) تعلق باللہ (۱۹۵۶ء)۔مطبوعات (پنجابی): جام وحدت۔( سی حرفی)۔تصدیق المسیح۔جھوک مہدی والی (اگست ۱۹۰۳ء) اس مقبول عام نظم کے بیسیوں ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں سنائی گئی جبکہ حضور مقدمہ کے دوران گورداسپور میں قیام پذیر تھے۔حضرت خلیفہ اول اور حضرت مصلح موعود نے بھی اسے بہت پسند فرمایا۔گلدستہ احمدی۔سہاگ نامہ احمدی۔کامن احمدی ، یہ نظم حضرت مولوی صاحب نے سفر جہلم (جنوری ۱۹۰۳ء) کے دوران لکھی اور اس کے بعد قادیان حاضر ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں سنائی۔اسوقت مجلس میں حضرت مولانا نور الدین صاحب اور حضرت مولانا عبد الکریم صاحب جیسے اکابر سلسلہ بھی موجود تھے۔حضرت منشی محمد افضل 173