تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 311 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 311

تاریخ احمدیت۔جلد 22 311 (۵) سال 1963ء حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا مندرجہ ذیل ارشاد مجھے جھنگ مگھیانہ میں معرفت با ابومحمد اسماعیل صاحب سٹیشن ماسٹر موصول ہوا۔از دفتر ڈاک قادیان د مگر می مولوی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مورخہ ۸/۷/۲۷۔آپ کا خط حضرت اقدس کی خدمت بابرکت میں پہنچا۔حضور نے خوشی کا اظہار فرماتے ہوئے فرمایا کہ ”ہم آپ کے کام سے خوش ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی زبان میں تاثیر اور کام میں برکت دے“۔(یوسف علی پرائیویٹ سیکرٹری )‘“ (Y) خاکسار نے ایک خواب دیکھا تھا کہ میری وفات ہوئی ہے اور سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے میرا جنازہ پڑھا ہے۔میں نے اس بارہ میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت بابرکت میں عریضہ لکھا۔جس کے جواب میں حضور کا مندرجہ ذیل ارشاد موصول ہوا:۔ڈلہوزی ۵/۹/۳۲ مکرمی حضرت مولوی صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کی چٹھی مورخ ۳۲/ ۲۲/۸ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ملاحظہ میں آئی۔حضور نے دعا فرمائی۔اللہ تعالیٰ خوابوں کو مبارک کرے۔روپیل گیا ہے۔جزاکم اللہ۔وفات تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کون پہلے پا جائے۔لیکن آپ میری زندگی میں فوت ہوں تو انشاء اللہ ضرور خود جنازہ پڑھوں گا کہ آپ صحابی ، سلسلہ کے مبلغ اور مخلص خادم سلسلہ ہیں“۔والسلام خاکسار قمر الدین برائے پرائیویٹ سیکرٹری 166 حضرت مولانا صاحب کی علم ومعرفت میں ڈھلی ہوئی تقریریں نہ صرف جماعت میں بلکہ دوسرے مذہبی حلقوں میں بھی بہت پسند کی جاتی تھیں۔آپ کی ہر تقریر تصوف میں ڈوبی ہوتی تھی اور جادو کا سا اثر رکھتی تھی۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔