تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 312 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 312

تاریخ احمدیت۔جلد 22 312 سال 1963ء میں سمجھتا ہوں کہ مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کا اللہ تعالیٰ نے جو بحر کھولا ہے وہ بھی زیادہ تر اسی زمانہ سے تعلق رکھتا ہے پہلے ان کی علمی حالت ایسی نہیں تھی۔مگر بعد میں جیسے یکدم کسی کو پستی سے اٹھا کر بلندی تک پہنچا دیا جاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے ان کو مقبولیت عطا فرمائی اور ان کے علم میں ایسی وسعت پیدا کردی کہ صوفی مزاج لوگوں کے لئے ان کی تقریر بہت ہی دلچسپ ، دلوں پر اثر کرنے والی اور شبہات و وساوس کو دور کرنے والی ہوتی ہے۔گزشتہ دنوں میں شملہ گیا تو ایک دوست نے بتایا کہ مولوی غلام رسول صاحب را جیلی یہاں آئے اور انہوں نے ایک جلسہ میں تقریر کی جو رات کے گیارہ ساڑھے گیارہ بجے ختم ہوئی۔تقریر کے بعد ایک ہندو ان کی منتیں کر کے انہیں اپنے گھر لے گیا اور کہنے لگا کہ آپ ہمارے گھر چلیں آپ کی وجہ سے ہمارے گھر میں برکت نازل ہوگی“۔167 جناب سردار دھر مانت سنگھ صاحب پر نسپل سکھ مشنری کالج امرتسر نے بیان کیا کہ: ”میں قادیان میں جلسہ سالانہ میں شریک ہوا۔جب حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو میں نے اور میرے ساتھیوں نے آپ کی نہایت سادہ وضع قطع اور لباس کو دیکھ کر میچ سے باہر جانا چاہا۔لیکن جب ہم اٹھ کر باہر جارہے تھے تو آپ کی تقریر کے ابتدائی فقرات ہمارے کانوں میں پڑے جو اس قدر پر تاثیر اور جاذب توجہ تھے کہ ہم رک گئے۔اور آپ کی تقریر سننے کے لئے بیٹھ گئے۔اور آپ نے جو حقائق و معارف اپنی تقریر میں بیان فرمائے اس سے ہمیں بہت ہی لطف آیا۔چنانچہ تقریر کے بعد ہم آپ کے گھر پر بھی آپ سے عارفانہ نکات سنتے رہے۔اور ہمیں محسوس ہوا کہ آپ کے نہایت سادہ لباس کے اندر معرفت الہی اور نور و برکت کا مجسمہ پنہاں ہے پھر تو جب بھی ہم قادیان آتے تو حقائق و معارف سننے کے لئے اکثر آپ کے پاس حاضر ہوتے“۔جلسہ سالانہ پر تقاریر آپ کو جلسہ سالانہ کے مقدس سٹیج سے لمبا عرصہ خطاب کرنے کی توفیق ملی۔آپ کی ہر تقریر اپنے اندر خصوصی اہمیت رکھتی تھی اور نہایت ضروری اور اہم موضوع پر مشتمل ہوتی تھی جیسا کہ مندرجہ ذیل تفصیل سے عیاں ہے۔