تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 310
تاریخ احمدیت۔جلد 22 310 سال 1963ء سے جواب بھی مانگا ہے۔مداہنت اور ملمع سازی کو کام میں لایا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ رحم کرے۔میں ایک کمزور انسان ہوں۔اس قدر فساد کا روکنا میرے اختیار سے باہر ہے۔خدا کا ہی فضل ہو تو فتنہ دور ہو۔یہ وقت ہے کہ جماعت کے مخلص دعاؤں سے کام لیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے طالب ہوں۔شاید الفضل کا اس طرح اچانک نکلنا ہی ان حکمتوں پر مبنی تھا۔میاں عبدالرحمن صاحب کو بھی میری طرف سے السلام علیکم اور جزاکم اللہ پہنچادیں (میاں عبد الرحمن صاحب سے مراد میرے برادر نسبتی ہیں)۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد (لد) عریضه ازطرف خاکسار و جواب سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہتعالیٰ بنصرہ العزیز سید نا حضرت اقدس صلوات اللہ علیکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔خیریت مطلوب۔خاکسار ضلع جالندھر اور ضلع ہوشیار پور سے فارغ ہو کر مکرمنا حضرت ناظر صاحب کے حکم سے آج رات یعنی ۳ را پریل کی شام کو واپس دارالامان پہنچا۔مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ حضور میرے گھر میں تشریف لائے ہیں۔اور میں نے چار روپے نذر محبت اور نذر عقیدت سے پیش کئے ہیں۔آج تنخواہ ملی تھی۔میرے دل میں خیال آیا کہ روپے پیش کرنا تو خواب کا وہ حصہ ہے۔جو میرے اختیار میں ہے، وہ تو پورا کرلوں باقی حصہ اللہ تعالیٰ کے تصرف اور قبضہ میں یا حضور کے ارادہ اور منشاء عنایت اور توجہ اور شفقت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اور میرے اختیار سے باہر ہے۔سو یہ حقیر رقم مبلغ چار روپے حضور کی خدمت میں ارسال ہے۔گر قبول افتد ز ہے عز وشرف۔(خاکسار غلام رسول را جیکی )۴/۴/۳۳ حضور کا جواب جو آپ نے اسی عریضہ کے اوپر قائم مبارک سے تحریر فرمایا:۔دد مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ جزاكم الله احسن الجزاء - اللہ تعالیٰ اس کے روحانی پہلو کو بھی پورا کرے۔اور چاروں اطراف عالم میں آپ کے ذریعہ سے احمدیت کا اعلیٰ اور مصفے بیج بویا جائے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد