تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 298 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 298

تاریخ احمدیت۔جلد 22 298 سال 1963ء کچھ پیش کر سکے ہیں اور نہ قرآنی تعلیم پر کوئی معقول اعتراض کر سکے ہیں اپنی گھڑی نکالی اور کہا اگر چہ وقت ابھی باقی ہے لیکن چونکہ مجھے ایک ضروری کام ہے اور جس قدر بحث ہو چکی ہے اسی کو کافی سمجھتا ہوں۔حضرت مولانا صاحب نے فرمایا کہ آپ اپنی صدارت کے فرائض بقیہ وقت تک بھی سرانجام دیں ورنہ کسی اور کو اپنی جگہ مقرر کر دیں لیکن صدر صاحب جو آریہ سماج کی کھلی شکست اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے رضا مند نہ ہوئے اور اٹھ کر چل دئے۔مسلمانوں کو ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ پنڈت کا لچرن صاحب کے سوالوں کا ایسا شاندار اور مسکت جواب ایک احمدی عالم کی طرف سے دیا جائے گا۔مناظرہ کے اختتام پر مسلمان پبلک کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔بعض غیر احمدی علماء نے بھی آیت زیر بحث کی تفسیر سن کر کمال مسرت کا اظہار کیا۔جب آپ آریہ سماج کے پنڈال سے اپنے احباب کے ساتھ باہر تشریف لائے تو اسی آیت کے متعلق ایک لاٹ پادری صاحب سے آپ کی گفتگو ہوئی۔خدائے ذوالعجائب کے یہ عجیب تصرفات ہیں کہ جس وقت پادری صاحب نے یہ آیت پڑھی تو اسی وقت ایک عجیب نور معرفت آپ کے قلب پر نازل ہوا اور ایک نئی حقیقت آپ پر منکشف ہوئی۔پادری صاحب نے دریافت کیا کہ يَسْئَلُونَ میں کن لوگوں کا ذکر ہے اور روح سے کیا مراد ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ قرآن کریم چونکہ ہر زمانہ کے لوگوں سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اس وقت روح کے متعلق سوال کرنے والے پادری صاحبان ہی ہو سکتے ہیں۔پادری صاحب فرمانے لگے کہ پھر يَسْئَلُونَگ میں ک خطاب کا پایا جاتا ہے یہ کون ہو گا۔آپ نے فرمایا کہ نزول قرآن کے وقت تو خدا کا رسول تھا اور اب خدا کے رسول کی نمائندگی کرنے والا کوئی غلام رسول ہی ہو سکتا ہے۔پادری صاحب کہنے لگے کہ آپ غلام رسول ہیں آپ نے فرمایا کہ اگر چہ معناً بھی یہ خاکسار غلام رسول ہے لیکن حسن اتفاق سے میرا نام بھی غلام رسول ہے۔پادری صاحب فرمانے لگے روح سے مراد آپ کے نزدیک کون سی روح ہے آپ نے روح القدس کی تائید سے یہ جواب دیا کہ وہی روح جسے انجیل یوحنا میں روح حق سے موسوم کیا گیا ہے چنانچہ آیت ۱۶-۱۷ باب ۱۴ میں مرقوم ہے اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا۔کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے یعنی روح حق جسے دنیا حاصل نہیں کر سکتی۔پھر باب ۱۶ ( آیت ۷ سے ۱۳ تک ) یہ الفاظ ہیں :۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ