تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 297
تاریخ احمدیت۔جلد 22 297 سال 1963ء ہدایات دیں اور شیخ محمود احمد صاحب عرفانی کو رفیق سفر مقر فرمایا نیز ہدایت فرمائی کہ ہفتہ عشرہ کے لئے کانپور میں قیام کریں وہاں آجکل مختلف مذاہب کے جلسے ہورہے ہیں۔جب آپ کا نپور پہنچے تو معلوم ہوا کہ اہل حدیث وسیع پیمانہ پر ایک کانفرنس کر رہے ہیں جس میں شمولیت کے لئے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی آچکے ہیں۔اشتہار میں مولوی ثناء اللہ صاحب کا مضمون ”اسلام اور قادیان“ لکھا ہوا تھا یہ تقریر کا نفرنس کے آخری دن میں رکھی گئی تھی۔اس کے مقابل پنڈت کا لچرن فاضل سنسکرت و عربی کی طرف سے تمام احناف، اہل حدیث اور اہل تشیع کو مناظرہ کا کھلا چیلنج دیا گیا۔اہل حدیث نے اپنی کا نفرنس میں مصروفیت کا عذر کرتے ہوئے چیلنج قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اس پر آریہ سماج نے اشتہار شائع کیا جس کا عنوان تھا آریہ سماج کی عظیم الشان فتح اور اہل اسلام کا کھلا فرار اور شکست حضرت مولانا راجیکی صاحب نے اشتہار کا علم ہوتے ہی پنڈت کالچرن کو رقعہ لکھا کہ اہل اسلام کی طرف سے مناظرہ کے لئے خاکسار تیار ہے۔آپ مناظرہ کی جگہ اور وقت سے اطلاع دیں چنانچہ 9 بجے وقت مقرر ہوا۔آریہ سماج نے اپنے لئے تو عظیم الشان سٹیج تیار کی لیکن مسلمانوں کے لئے صرف ایک چھوٹی سی میز اور ایک کرسی رکھ دی۔چونکہ شہر میں اس مناظرہ کی اچھی طرح سے منادی ہو چکی تھی اس لئے لوگ دوسرے جلسوں اور تقریبوں کو چھوڑ کر جوق در جوق میدان مناظرہ میں آنے لگے اور ہزاروں کا اجتماع ہو گیا۔پنڈت کا لچرن نے مناظرہ میں آپ پر قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي (بنی اسرائیل: ۸۲) سے متعلق اعتراضات کئے اور اپنی عربی دانی پر بہت ناز کیا اور اپنے دوعربی رسائل جن میں سے ایک کا نام تحقیق الادیان تھا حضرت مولانا صاحب کی طرف بھیجے۔حضرت مولانا صاحب نے اول تو پنڈت صاحب کی عربی دانی پر اظہار مسرت کیا اور بتایا میں بھی عربی ، فارسی اور اردو کا شاعر ہوں اگر پنڈت صاحب چاہیں تو اسی وقت عربی نثر یا نظم میں مناظرہ کر سکتے ہیں۔پھر ان کو توجہ دلائی کہ از روئے وید اگر روح کی ماہیت بیان کر دی جاتی تو وید کے حقائق و معارف ظاہر ہو جاتے اور قرآنی جواب کا نقص بھی واضح ہو جاتا۔اس کے بعد آپ نے اس آیت کی ایسی روح پرور اور ایمان افروز تفسیر فرمائی کہ پنڈت جی کے اعتراضات کی دھجیاں بکھر گئیں اور وہ بالکل ساکت وصامت ہو کے رہ گئے۔ابھی مناظرہ کا وقت کسی قدر باقی تھا کہ صدر جلسہ نے جو آریہ تھے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ پنڈت صاحب نہ تو ویدوں سے