تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 299
تاریخ احمدیت۔جلد 22 299 سال 1963ء مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا۔اور وہ آکر دنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا۔گناہ کے بارے میں اس لئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لاتے۔راستبازی کے بارے میں اس لئے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔عدالت کے بارے میں اس لئے کہ دنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔لیکن جب وہ یعنی روح حق آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا وہ میرا جلال ظاہر کرے گا“۔حضرت مولانا نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق اس پیشگوئی کو شرح وبسط سے بیان فرمایا تو پادری صاحب لا جواب ہو کر کہنے لگے آپ قادیانی تو نہیں !۔آپ نے بتایا کہ خدا کے فضل سے میں احمدی ہوں۔کئی مسلمان جو قبل ازیں آریوں کے مناظرہ میں بھی موجود تھے کہنے لگے آپ نے قرآن کریم کہاں سے پڑھا ہے۔آپ نے فرمایا کہ فی زمانہ قرآنی علوم کا سر چشمہ حضرت مسیح قادیانی علیہ السلام ہیں اور یہ علوم و فیوض مرکز احمدیت قادیان سے حاصل ہوتے ہیں۔۱۰ را پریل ۱۹۱۹ ء کو آپ کا مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ کے اشتہار پر فیصلہ کن مباحثہ ہوا۔چونکہ آپ کے پاس اخبار اہلحدیث کے اصل پر چہ جات اور مرقع قادیانی وغیرہ موجود تھے اس لئے مولوی ثناء اللہ صاحب کو انکار کی جرات نہ ہوسکی۔جب آپ سٹیج سے اترے تو چالیس کے قریب حنفی مسلمان جو اہلحدیثوں کے سخت خلاف تھے آپ کے ارد گرد جمع ہو گئے اور پنڈال سے باہر نکال کر اظہار خوشنودی کے طور پر سب احمدیوں کو دودھ پلایا۔اہلحدیث کا نفرنس کے اختتام کے بعد آپ نے مسلمانوں کے ایک لاکھ کے اجتماع میں شرکت کی۔جس میں مختلف مسلمان زعماء نے خلافت ترکی کی امداد کے لئے چندہ کی تحریک کی تحریک کرنے والے علماء میں سے مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی بھی تھے۔جنہوں نے آپ کو دیکھتے ہی بلند آواز سے کہا کہ کیا آپ بھی خلافت ترکی کے قائل ہیں۔آپ نے نہایت پر شوکت آواز میں جواب دیا کہ خلافت اسلامیہ حلقہ کا کون مسلمان قائل نہیں۔آپ اہلحدیث ہیں اور میں احمدی ہوں۔آپ کے نزدیک تو خلافت راشدہ کے تمہیں سالہ دور کے بعد حکومت کا دور شروع ہو گیا اور جولوگ خلافت ترکی کے قائل ہیں وہ بھی اس کو خلافت علی منہاج النبوۃ نہیں سمجھتے نہ فرقہ اہل حدیث کے مسلمان جن میں