تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 292
تاریخ احمدیت۔جلد 22 292 سال 1963ء کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔صدر جلسہ نے اشتہار ہاتھ میں لے کر اعلان کیا کہ پادری غلام مسیح کے لیکچر کا عنوان فضیلت مسیح بر ہمہ انبیاء از روئے قرآن ہے۔جو صاحب اس مضمون پر کچھ کہنا چاہیں انہیں دس دس منٹ کا وقت ملے گا وہ اپنے نام ابھی پیش کر دیں تا لیکچر کے اختتام پر باری باری ان کو موقعہ دیا جا سکے۔پادری غلام مسیح کا لیکچر ختم ہوا تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی، مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ، مولوی محمد ابراہیم وکیل لاہوری اور بعض دوسرے علماء جنہوں نے نام لکھوائے تھے باری باری کھڑے ہوئے لیکن ان علماء نے پادری صاحب کے مطالبہ کے مطابق اپنے جوابات قرآن کریم ینے کی بجائے تو رات اور انجیل کی عبارات پڑھ پڑھ کر اپنا وقت ختم کر دیا۔پادری صاحب نے بار بار مسلمانوں اور ان کے علماء کی اس کمزوری کو واضح کر کے شرم دلائی کہ اگر یہ فضائل جو میں نے مسیح کے متعلق قرآن سے پیش کئے ہیں قرآن کی رُو سے کسی اور نبی میں بھی پائے جاتے تو علماء ان کو ضرور پیش کرتے۔لیکن ان کا ایسانہ کرنا جملہ انبیاء پر مسیح کی فضیلت ثابت کرتا ہے۔اسی اثناء میں آخر میں صدر صاحب نے آپ کا نام پکارا۔آپ حیران تھے کہ میں نے تو اپنا نام پیش نہیں کیا پھر کس نے لکھا دیا۔حضرت ملک خدا بخش صاحب نے (جو قریب ہی بیٹھے تھے ) بتایا کہ میں نے آپ کا نام لکھ کر بھجوا دیا تھا۔آپ جب سٹیج پر کھڑے ہوئے تو لوگوں نے آپ کی صوفیانہ وضع اور سادہ لباس دیکھ کر جبہ پوش علماء کے مقابلہ پر آپ کو بہت ہی حقیر خیال کیا اور سمجھا کہ اس آخری تقریر سے اسلام کی اور بھی رسوائی ہوگی اور بہت سے مسلمان مرتد ہو جائیں گے۔مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے زبر دست جوابات نے پانسہ ہی پلٹ دیا اور پورا ہال مسلمانوں کے نعروں سے گونج اٹھا اور پادری غلام مسیح کو آپ کے مقابل پر بولنے اور دم مارنے کی جرات نہ ہوئی۔جب آپ ہال سے باہر تشریف لائے تو پچاس ساٹھ جو شیلے مسلمانوں نے آپ کو حلقے میں لے لیا اور بعض نے جوش مسرت سے اوپر اٹھالیا اور تسلیم کیا کہ آپ کے جوابات سے اسلام کی خوب نصرت ہوئی ہے۔رپورٹ صدر انجمن احمد یہ قادیان ۱۰۔۱۹۰۹ء صفحہ اسے پتہ چلتا ہے کہ آپ کا قیام اگر چہ لاہور میں تھا اور خلیفہ وقت کی طرف سے آپ یہیں متعین تھے مگر آپ کو مختلف مقامات پر بغرض تبلیغ جانا پڑتا تھا۔مثلاً منصوری، میرٹھ ، حافظ آباد، شکر گڑھ، سرگودھا، ضلع امرتسر و فیروز پور۔آپ زیرہ (ضلع فیروز پور ) بھی تشریف لے گئے تھے جہاں آپ نے حنفی علماء کو عربی مکتوب کے ذریعہ عربی میں مناظرہ 136