تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 293 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 293

تاریخ احمدیت۔جلد 22 293 سال 1963ء کرنے یا تفسیر قرآن لکھنے کا چیلنج دیا مگر علماء مرد میدان کیا بنتے وہ تو آپ کا عربی خط پڑھنے سے بھی قاصر رہے۔اس موقعہ پر بارہ افراد نے قبول احمدیت کیا۔حضرت مولانا صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔۱۹۰۹ء میں خاکسار ایک وفد کی صورت میں میرٹھ شہر میں نو چندی کے میلے کی تقریب پر بغرض تبلیغ گیا۔وہاں پر میں نے بہت ہی مبشر رؤیا دیکھی۔میں نے دیکھا کہ میں اپنے آپ کو سترھویں صدی ہجری میں موجود پاتا ہوں اس میں تمام دنیا مجھے کف دست ( ہاتھ کی ہتھیلی ) کی طرح سامنے نظر آتی ہے۔اس وقت تمام روئے زمین پر مجھے احمدی بادشاہ اور حکومتیں دکھائی دیتی ہیں“۔138- 1911ء میں آپ نے جنوبی ہند کا کامیاب تبلیغی دورہ کیا۔حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں بنگلور شہر سے ایک درخواست پہنچی کہ وہاں جماعت اسلامیہ کی طرف سے ایک جلسے کا انتظام کیا گیا ہے اور بلاد ہند کے مختلف علاقوں سے علماء کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔آپ بھی مرکز سے علماء بھجوائیں۔چنانچہ حضرت صاحب کے ارشاد پر آپ مع خواجہ کمال الدین صاحب، مرزا یعقوب بیگ صاحب اور لال شاہ صاحب برق پشاوری بنگلور تشریف لے گئے۔اس موقعہ پر بنگلور میں مختلف اطرافین سے مشہور علماء جمع تھے جن میں مولانا سید سلیمان صاحب ندوی مؤلف سیرۃ نبوی ، مولانا شوکت علی اور بعض عرب علماء بھی تھے۔جلسہ بنگلور میں آپ کی معرکہ آرا تقریر سورہ کوثر کی تفسیر پر ہوئی۔تقریر کے بعد مولانا سید سلیمان ندوی صاحب نے خواجہ کمال الدین صاحب سے دریافت فرمایا کہ یہ صاحب جنہوں نے ابھی تقریر کی ہے کون ہیں؟ ان کی بیان کردہ تفسیر نے مجھے حیرت میں ڈال دیا ہے۔میں نے آج تک ۱۰۰ کے قریب تفاسیر سورۃ کوثر کی پڑھی ہیں اور مفسرین نے جو عجیب و غریب حقائق و معارف اس سورۃ کے بیان کئے ہیں ان پر آگاہی حاصل کی ہے مگر جو کچھ انہوں نے آج بیان کیا ہے یہ بالکل نیا اور اچھوتا ہے اور ان کی تقریر سے مجھے جدید معلومات کا ذخیرہ ملا ہے۔خواجہ صاحب نے ان کو بتایا کہ یہ میرے استاد ہیں اور انہوں نے اس وقت اختصار کے ساتھ بیان کی ہے ورنہ اس کے متعلق وہ لاہور میں بہت زیادہ تفصیل سے روشنی ڈال چکے ہیں۔بنگلور سے روانہ ہو کر یہ تبلیغی وفد بمبئی پہنچا اور نواب سید رضوی صاحب کی وسیع وعریض بلڈنگ میں فروکش ہوا۔دوسرے ارکان وفد سیر و تفریح کے لئے باہر چلے جاتے تو آپ ایک علیحدہ کمرہ میں ذکر واذکار کرتے یا نفل پڑھتے یا فریضہ تبلیغ ادا کرتے۔گاہے گاہے آپ خواجہ صاحب کے ساتھ جلسوں 139