تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 290
تاریخ احمدیت۔جلد 22 290 سال 1963ء یہ شفقت دیکھی تو پڑھنے پر مجبور ہو گیا اور حضور سے طب کی بعض کتابیں بالا سباق پڑھتا رہا۔اس کے بعد آپ کی توجہ سے مجھے اس علم کا اتنا شوق پیدا ہوا کہ میں نے بعض نسخے راہ چلتے مسافروں سے بھی پوچھے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھایا ہے اور پھر آج تک جو جو مجربات میں نے ہندوستان کے تبلیغی سفروں کے ذریعے اکٹھے کئے ہیں ان کو اگر یکجا کیا جائے تو مجھے امید ہے کہ ان سے سینکڑوں صفحات کی کتاب مرتب ہو سکتی ہے اور ان میں سے اکثر نسخے ایسے صدری مجربات سے ہیں جو بعض خاندانوں میں پشتہا پشت سے مخفی چلے آئے ہیں اور عام لوگ ان سے واقف نہیں ہیں۔علاوہ ازیں تشخیص و علاج کے لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے کئی ایسے مریضوں کے بارہ میں کامیابی عطا فرمائی ہے جو ہندوستان کے بعض مشہور اطباء سے مایوس ہو چکے تھے۔الحمد للہ علی ذالک حضرت مولا نا تحریر فرماتے ہیں:۔132 جن دنوں حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام باغ میں تشریف فرماتھے میں ایک دن حضور کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا اور اپنے کرتہ کے بٹن کھول کر عرض کیا کہ حضور میرے سینہ پر پھونک ماریں اور دست مبارک بھی پھیریں۔چنانچہ حضور اقدس علیہ السلام نے اس غلام حقیر کی اس خواہش کو شرف قبولیت بخشا اور میرے سینہ پر پھونک مارا اور اپنا دست مبارک بھی پھیرا۔الحمد لله على ذالک ۳۰ ستمبر ۱۹۰۵ء کو قبل دو پہر ایک مجلس میں تشریف فرما تھے جس میں آپ کو حضور علیہ السلام کی خدمت اقدس میں اپنا ایک فصیح و بلیغ اور بے نقطہ قصیدہ سنانے کا اعزاز نصیب ہوا۔اسی سال کا واقعہ ہے کہ آپ مہمان خانہ قادیان میں قیام فرما تھے ایک روز حضرت عبدالمجید خان صاحب کپورتھلوی نے آپ سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ ان کے ساتھ کپورتھلہ تشریف لے چلیں۔آپ نے معذرت کی کہ حضور اقدس علیہ السلام کی اجازت کے بغیر میں باہر نہیں جاسکتا۔اس پر انہوں نے حضور کی خدمت میں درخواست لکھی حضور علیہ السلام نے جواباً فرمایا ”ہاں اگر وہ جانا چاہیں تو میری طرف سے اجازت ہے، چنانچہ آپ بخوشی کپورتھلہ تشریف لے گئے اور تقریباً چھ ماہ تک قرآن مجید کا درس دیا۔قیام کپورتھلہ کے دوران آپ نے حضرت خان عبدالمجید خاں صاحب کی تحریک پر ایک پنجابی سہ حرفی تحریر فرمائی۔جس کے ہر ایک بند میں ان کی خواہش کے مطابق آپ کا نام بھی آتا تھا یہ سہ حرفی غیر مطبوعہ ہے البتہ حضرت مولانا نے حیات قدسی صفحہ ۴۳ پر اس کے چند اشعار اپنی یادداشت کی بنا پر درج کر دیے ہیں جن سے اس نظم کی علمی شان کا اندازہ ہوتا ہے۔