تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 289
تاریخ احمدیت۔جلد 22 289 سال 1963ء 126- ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ء کو حضرت مسیح موعود نے اپنے دست مبارک سے منارة امسیح کا سنگ بنیاد رکھا اور ایک لمبی دعا کرائی جس میں آپ بھی شامل تھے۔۱/۲۷ کتوبر ۱۹۰۴ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ تشریف لے گئے۔اور یکم نومبر کو حضوڑ کا مشہور لیکچر ہوا۔حضرت مولانا صاحب اس جلسے میں شریک تھے۔ایک روز قبل ۳۱ اکتوبر کو بوقت دو پہر کھانے سے قبل ایک پر معارف لیکچر ہوا۔جسے سن کر حضرت مولانا نورالدین (خلیفہ اول) بہت خوش ہوئے اور فرمایا:۔میں تو سمجھا تھا کہ نورالدین دنیا میں ایک ہی ہے مگر اب معلوم ہوا ہے کہ 128 ہمارے مرزا نے تو کئی نورالدین پیدا کر دیئے ہیں۔اُس وقت مجلس میں چودھری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے ماموں چودھری عبداللہ خان صاحب ساکن دانہ زید کا اور شیخ نبی بخش صاحب ساکن ڈیرہ بابا نانک بھی موجود تھے۔۴ را پریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کانگڑہ کے بعد سید نا حضرت مسیح موعود جن دنوں باغ میں قیام فرما تھے ( ان ہی ایام میں ایک روز تقریباً صبح کے نو دس بجے ایک عربی قصیدہ جس کے تین سو ساٹھ اشعار تھے آپ نے حضور علیہ السلام کی بارگاہ عالی میں پڑھ کر سنایا مولا ناراجیکی صاحب حضور علیہ السلام کے قدموں میں حاضر تھے بلکہ اس زمانہ میں آپ کو چھ ماہ سے زائد عرصہ قادیان میں گزارنے کا شرف حاصل ہوا۔حضرت حکیم الامت نورالدین جو عرصہ سے آپ کو طب پڑھنے کی ترغیب دے رہے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ آپ ذہین آدمی ہیں اس لئے میں آپ کو جلد ہی طب کا علم پڑھا دوں گا۔خود ہی طبی لٹریچر آپ کے لئے مہیا فرمایا اور اپنے پاس بٹھا کر طب کا سبق دینا شروع کیا پہلے طب احسانی پھر میزان الطب پڑھائی اور طب کے نظریات اور عملی حصہ سے اور ضروری قواعد وضوابط سے آپ کو آگاہ فرمایا۔حضرت حکیم الامت کی شاگردی میں آنے کے بعد آپ کی کایا پلٹ گئی اور طب کا بے حد شوق پیدا ہوا۔اور نہ صرف علم طب بلکہ تفسیر، حدیث ، فقہ اور تصوف کے علوم کی ہزار ہا کتا بیں مطالعہ کیں۔حضرت مولانا صاحب کا بیان ہے:۔ایک دن حضرت مولانا ( نور الدین) صاحب مہمان خانہ میں تشریف لائے اور ایک طب کی کتاب میرے ہاتھ میں دے کر فرمایا اب تو میں آپ کو پڑھا کر ہی چھوڑوں گا۔میں نے جب حضور کی