تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 15
تاریخ احمدیت۔جلد 22 15 سال 1963ء کیا گیا ان کا جواب یہ تھا کہ جو علاج کیا جا رہا ہے وہی بہترین ہے۔دیسی طب کے مجرب نسخے بھی زیر استعمال لائے گئے۔ہومیو پیتھک علاج کے لئے صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے کلکتہ کے ایک ماہر ڈاکٹر سے ( مفصل کو ائف بھجوا کر ) مشورہ حاصل کیا۔جس کے مطابق علاج جاری ہے۔اس رپورٹ کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اختتامی خطاب فرمایا جس میں جماعت کے نمائندوں ، مقامی جماعتوں ، مقامی امراء ، ضلع وارامراء اور علاقائی امراء کو نہایت تاکید کے ساتھ اس فرض کی طرف توجہ دلائی کہ وہ چوکس ہو کر ان دنوں میں اپنی زندگی گذاریں اور جماعت کے خلاف جو فتنے اٹھ رہے ہیں ان پر گہری نظر رکھیں اور ان کے خلاف جو بھی تدابیر وہ پُر امن طریق پر اختیار کر سکتے ہوں ان کو اختیار کریں اور حکام کو بھی ان سے مطلع رکھیں“۔آخر میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قلم مبارک سے نکلی ہوئیں وہ قیمتی نصائح پڑھ کرسنائیں جو رسالہ ” الوصیت میں درج ہیں اور جن کا آغاز ان مبارک ارشادات سے ہوتا ہے کہ:۔تمہیں خوشخبری ہو کہ قرب پانے کا میدان خالی ہے۔ہر ایک قوم دنیا سے پیار کر رہی ہے اور وہ بات جس سے خدا راضی ہو اس کی طرف دنیا کو توجہ نہیں۔وہ لوگ جو پورے زور سے اس دروازہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ان کے لئے موقعہ ہے کہ اپنے جو ہر دکھلائیں اور خدا سے خاص انعام پاویں۔یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔الخ 16 مشاورت کے متعلق ایک دوست کے تاثرات حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں:۔شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ وامیر جماعت احمد یہ لائکپور ایک بڑے مخلص اور بہت سمجھدار دوست ہیں۔انہوں نے مشاورت سے واپس جانے کے بعد مجھے ایک خط اپنے تاثرات کے متعلق لکھا ہے جو میں دوستوں کی اطلاع کے لئے الفضل میں بھجوا رہا ہوں۔مشاورت کے تینوں دن میں تو سر درد اور حرارت اور ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا رہا۔مگر یہ شکر کی بات ہے کہ مخلص دوستوں اور