تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 16 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 16

تاریخ احمدیت۔جلد 22 16 سال 1963ء نو جوانوں نے کام کو فی الجملہ اچھے رنگ میں سنبھالے رکھا۔اللہ تعالیٰ آئندہ بھی جماعت کا حافظ و ناصر ہو۔اور ہمارے بوڑھوں اور نوجوانوں اور مردوں اور عورتوں اور مرکزی کارکنوں اور مقامی عہد یداروں کی روح القدس سے نصرت فرمائے۔شیخ صاحب موصوف کا خط درج ذیل کیا جاتا ہے۔مخدومنا۔السلام علیکم۔تین باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔(۱) مشاورت بفضل خدا نہایت خیر و خوبی اور حسن انتظام سے نیک نتائج کے ساتھ انجام پذیر ہوئی۔الحمد للہ (۲) میرے آقا زادوں ناصر احمد صاحب، مبارک احمد صاحب، منور احمد صاحب، طاہر احمد صاحب، رفیع احمد صاحب اور پھر وسیم احمد صاحب اور انور احمد صاحب نے اس وقت جس خوبی سے سینہ سپر ہوکر جماعتی کاموں کو سنبھالا ہوا ہے۔مجھے اس سے خاص خوشی ہوتی ہے اور جماعت میں بھی یہ احساس جابجا پایا جاتا ہے۔ابنائے فارس کے مصداق مذکورہ اصحاب ہیں۔خصوصاً مرزا منور احمد صاحب کی ڈیوٹی بہت مردانگی اور فولادی اعصاب کو چاہتی ہے۔اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر دے۔اظہر احمد صاحب اور نعیم احمد صاحب نے بھی اچھے انداز میں خدمت سلسلہ کا کام شروع کیا ہے اور مجید احمد صاحب افریقہ میں خدمت بفضلہ سرانجام دے رہے ہیں۔(۳) محترم ملک غلام فرید صاحب نے تفسیر قرآن کو لیبی محنت کے بعد با وجود بیماری کے مکمل کر لیا ہے۔الحمد للہ۔میرے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی ہے کہ صدرانجمن احمد یہ یا مرکز کی طرف سے ایک تقریب کے ذریعہ ان کی خدمات کا اعتراف اشاعت تغییر اور غیر مبائعین کے بے جا تفاخر کے بارے میں مفید ہو گا۔ملک صاحب تو بے نفس اور بے ریا مخلص ہیں۔لیکن میری یہ تجویز اگر مفید خیال کی جائے تو اسے زیر غور لایا جائے۔بعض نیکیاں قدر افزائی سے فروغ پاتی ہیں کہ دیے سے دیا یونہی جلتا رہا ہے جلسہ سیرت النبی ﷺ اور علماء رحیم یارخاں کا مسلح مظاہرہ (خاکسار محمد احمد ) پنجاب کی سابق ریاست بہاولپور میں رحیم یار خاں مشہور شہر ہے۔یہاں جماعت احمدیہ کی طرف سے ۳۰ ، ۳۱ مارچ ۱۹۶۳ء کو سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلسہ مقرر تھا جسے علماء رحیم یارخاں نے مسلح مظاہرہ کر کے رکوا دیا۔