تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 283
تاریخ احمدیت۔جلد 22 283 سال 1963ء بات کے لئے ہوا کہ اب تبلیغ کے کام میں اس اعلان سے رکاوٹ پیدا ہوگی۔اور میری بات کو سننے سے ان لوگوں کو جنہوں نے اعلان سنا نفرت ہو جائے گی۔تو اس صورت میں پیغام حق پہنچانے کے متعلق جو سخت دقت پیش آئے گی اس کے ازالہ کی کیا تدبیر ہو سکے گی۔جب لوگ جمع علماء کے چلے گئے۔تو میں ایک کوٹھڑی میں داخل ہو کر دروازہ بند کر کے سجدہ میں گر گیا۔اور دعا کرنے لگ گیا۔اشکبار آنکھوں کے ساتھ رقت سے بھری ہوئی چیخوں کی آواز میرے سینے کے اندر سے نکلتی تھی۔رات کو جب میں سویا تو میرے سامنے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کاغذ پیش کیا گیا۔جس پر لکھا ہوا تھا:۔”مولوی غلام رسول جوان صالح کراماتی اس الہامی کلام کے نزول فرما ہونے تک کوئی بھی مجھے مولوی کے لقب سے مخاطب نہیں کرتا تھا اس لئے کہ مولویانہ سند کے علوم کی منزل سے میں ابھی بہت دور سمجھا جاتا تھا۔اس لئے کوئی مجھے میاں صاحب کہہ دیتا کوئی صوفی صاحب۔مولوی غلام رسول صاحب ساکن انگہ کے والد بزرگوار حکیم مولوی فضل الہی صاحب جو ہمارے خاندان کی بزرگی کی وجہ سے میرا بھی بہت ادب کرتے۔اکثر میرے متعلق میاں صاحب کا لفظ ہی استعمال کرتے۔اور دوسرے لوگ بھی عام طور پر میاں صاحب ہی کہتے۔اس الہامی بشارت کے بعد میں نے اس الہامی بشارت کو بہت سے لوگوں سے بیان کر کے کہہ دیا تھا کہ اب میں آسمان پر مولوی قرار پاچکا ہوں اور آسمانی مولویت کے خطاب سے مجھے سرفراز فرمایا گیا ہے۔اب میں نے مولوی ہو جانا ہے۔بعض افراد اس بشارت کو سن کر بطور مذاق یہ بھی کہہ دیتے کہ مولوی بننے والا علم تو آپ نے پڑھا نہیں۔پھر مولوی کس طرح بنیں گے۔لیکن اس کے بعد ایک دنیا نے دیکھ لیا کہ اس الہامی بشارت نے اپنی صداقت کا جلوہ کس شان سے ظاہر فرمایا۔کہ مولوی کے سوا اب کوئی میرا نام لیتا نہیں۔مولا نا امام الدین صاحب اور میں نے جب دونوں نے بیعت کی۔مہمان خانہ میں ہم اترے۔اس وقت شیخ محمد اسمعیل صاحب سرساوی بیعت کرنے والوں کے نام لکھا کرتے تھے۔ہم دونوں سے بھی انہوں نے دریافت فرمایا کہ آپ صاحبان کا نام و پتہ جو کچھ ہو مجھے لکھا دیں۔میں نے اپنے گاؤں کا نام راجیکی بتایا۔نام لکھا نا حسن تفاول کے لحاظ سے ایسا مبارک ثابت ہوا کہ میرے گاؤں کا نام اب میرے نام کا جزو بن گیا۔یہاں تک کہ حضرت خلیفہ اول اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مجھے اکثر مولوی راجیکی کے نام سے ہی ذکر فرماتے۔اس الہامی بشارت کے بعد اور اس بشارت کے بعد جو درخت پر چڑھنے اور سارا قرآن