تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 282
تاریخ احمدیت۔جلد 22 282 سال 1963ء بزرگ اس طرح سے گویا بچپن سے ہی ولی ہوتے تھے۔آپ ایسے خاندان اور بزرگوں کو بدنام نہ کریں۔اور اس کفریہ عقیدہ سے باز آجائیں۔میں نے عرض کیا کہ میں نے حضرت مرزا صاحب کو مرزا صاحب کی حیثیت سے تو نہیں مانا۔بلکہ اس لئے مانا ہے کہ خدا نے انہیں مسیح موعود اور مہدی معہود کی حیثیت میں اپنی طرف سے مبعوث فرمایا ہے اور میں آپ کی صداقت کو قرآنِ کریم اور حدیث کے پیش کردہ معیاروں کی رُو سے ثابت کرتا ہوں۔کہ حضرت مرزا صاحب اپنے دعاوی میں منجانب اللہ اور بالکل صادق ہیں۔مولوی صاحبان نے اس پر شور ڈالا اور اونچی اونچی آواز سے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمیں آپ کے دلائل اور تقریر سننے کی ضرورت نہیں صرف تو بہ کرنے کی ضرورت ہے۔آپ تو بہ کریں اور کفر سے باز آجائیں۔اس سے زیادہ کوئی بات آپ کے منہ سے ہم سننا نہیں چاہتے۔میں نے عرض کیا کہ پھر یہ تو سکھا شاہی ہے۔کہ دلائل کے سوا آپ اپنی طرف سے ایسی کارروائی کرنا چاہتے ہیں جو نہ شرعاً جائز ہے نہ قانونا نہ عقلاً نہ نقلا۔بعض مولوی صاحبان نے مجھے جوش غضب سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دو حرفی بات کرو۔کفر سے باز آنا ہے یا نہیں۔میں نے کہا۔خدا اور رسول اور اسلامی تعلیم کے رُو سے تو میں نے حضرت مرزا صاحب کو مان کر ایمان حاصل کیا ہے۔اب میں اس ایمان سے کیسے تو بہ کروں۔اور جس کفر سے آپ تو بہ کرانا چاہتے ہیں۔وہ خدا، رسول اور اسلامی تعلیم کا کفر تو نہیں البتہ آپ جیسے علماء کا کفر ہے۔سو آپ کے کفر سے تو میں نے حضرت مرزا صاحب کے ہاتھ پر جا کر تو بہ کی ہے اب اس تو بہ کے بعد میں اور کس قسم کی تو بہ کروں۔اس پر علماء اور بھی برافروختہ ہوئے۔اور مولوی شیخ احمد کھڑے ہو گئے۔سینکڑوں آدمیوں کا مجمع تھا۔جس کے سامنے انہوں نے میرے متعلق فتویٰ کفر کا اعلان کر دیا۔کہ یہ شخص مرزائے قادیانی کومسیح و مہدی مان کر کافر ہو چکا ہے۔اس لئے اس کے ساتھ ملنا جلنا اس کے پاس بیٹھنا اور اس سے سلام کلام اور اس کے ساتھ کھانا پینا شریعت کے رُو سے قطعاً حرام ہے۔ہر ایک مسلمان مرد اور عورت اس سے بکلی پر ہیز کرے۔اس پر میرے چچا زاد بھائی حافظ غلام حسین صاحب نے میری حمایت میں جوش کے ساتھ انہیں اور ان کے حامیوں کو جو انہیں لے کر آئے تھے سخت لفظوں سے مخاطب کیا۔کہ تمہارے اس فتوئی کفر کی کیا حقیقت ہے۔تم نے محض شرارت سے اعلان کیا ہے۔افسوس تم پر اور تمہارے اس اعلان پر۔علماء کا یہ اعلان جو میرے متعلق فتویٰ کفر کا کیا گیا۔کیا تھا۔گویا خدا کی طرف سے آسمانی فیوض کی کھڑکیاں کھلنے کا ایک پیش خیمہ تھا۔مجھے علماء کے اس اعلان کی وجہ سے جو غم اور حزن ہوا وہ صرف اس