تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 284
تاریخ احمدیت۔جلد 22 284 سال 1963ء پڑھنے اور اس بڑی کتاب کے پڑھائے جانے کے بعد جو مشرق مغرب تک پھیلی ہوئی اور آسمان کی بلندی تک اونچی تھی ایک طرف خدا تعالیٰ نے میرا سینہ علوم لدنیہ اور معارف دینیہ اور اسرار مخفیہ اور حقائق قرآنیہ اور عجائبات حکمیہ کیلئے کھول دیا۔اور دوسری طرف میرے لئے ظاہری کتب کے مطالعہ کیلئے اس قدر توفیق بخشی کہ قریباً دس ہزار لغات عربی زبان کی مجھے یاد ہو گی۔اور حضرت اقدس مسیح موعود کی تمام کتب اور خصوصاً عربی کتب کو میں نے اس استغراق اور محویت کے ساتھ پڑھا کہ میرے دل اور دماغ میں و فقش ہوتی چلی گئیں اور حضرت مسیح موعود کے کلام سے میرے اندر ایک ایسا اثر اور ملکہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ گویا میں عربی زبان میں اگر کچھ لکھنا چاہوں تو میں اس پر قادر ہوں گا۔اس کے بعد میں نے بعض مخالف علماء کو عربی میں خطوط لکھے۔اور مقابلہ کیلئے بلایا۔کہ میرے ساتھ عربی زبان میں مقابلہ کریں۔یا عربی میں قرآن کریم کے کسی مقام کی آمنے سامنے بیٹھ کر تفسیر لکھیں۔لیکن پنجاب اور ہندوستان کے علماء میں سے کوئی بھی مقابلہ نہ کر سکا۔نہ مولوی ثناء اللہ امرتسری نہ ہی مولوی ابراہیم سیالکوٹی نہ ہی دیوبندی علماء نہ ہی کلکتہ اور بہار اور در بینگا کے علماء جنہوں نے مونگھیر کے عربی تحریری مناظرہ میں میرے عربی پر چہ لکھنے اور ہزار ہا مخلوق کے سامنے لکھنے اور پڑھنے کے بعد اپنے عجز کی وجہ سے پیٹھ دکھاتے ہوئے میدان مقابلہ سے بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہ دیکھا۔حالانکہ ڈیڑھ سو کے قریب اطراف ہند سے اس مناظرہ کیلئے علماء جمع تھے۔اس مناظرہ سے پہلے میں نے کشفا دیکھا کہ میرا ہاتھ ید بیضا کی شکل پر بالکل سفید اور نورانی ہے اور چمکتا ہے اور پھر جب میں مناظرہ کیلئے کھڑا ہوا تو روح القدس آسمان سے مجھ پر نازل کی گئی۔جس نے مجھے اپنے پورے تصرف کے اندر کر لیا۔اور میرے قلم کا جنبش عربی زبان میں پرچہ لکھنے کے وقت اور میری زبان عربی پر چہ سنانے کے وقت روح القدس کے تصرف کے نیچے حرکت کرتی تھی۔اور میں ایک آلہ کی طرح درمیان میں صرف ایک پردہ کے طور پر نظر آتا تھا۔اور یہ اعجازی اور علمی برکت کا نشان میرے پیارے مسیح محمدی کا نشان صداقت اور جلوہ حقیقت ظاہر ہوا۔جس پر اسی وقت ساحرانِ موسی کی طرح کئی نو جوانوں نے جو آٹھ کی تعداد سے کم نہ تھے اسی میدان مناظرہ میں اپنی بیعت اور احمدیت کا اعلان کرنا چاہا۔جنہیں حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب امیر وفد نے فرمایا کہ مکان پر آکر بیعت کر لینا چنانچہ بیعت سے وہ احمدی ہو گئے۔اور میں جو اتنا خوش الحان نہیں پر چہ سنانے کے وقت ایسی مؤثر اور خوش الحانی سے پرچہ پڑھا که مباحثہ مونگھیر کی رپورٹ مرتب کرنے والے صاحب نے لحن داؤدی سے اسے تعبیر فرمایا۔اس