تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 281 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 281

تاریخ احمدیت۔جلد 22 281 سال 1963ء تھا۔ہم عرصہ تک غیر احمدیوں کے پیچھے ہی نمازیں ادا کرتے رہے۔پھر ۶ ماہ تک میں مدرسہ رحیمیہ میں تصوّف کا شغل رکھتے ہوئے کسی قدر عربی کی تعلیم حاصل کرتا رہا۔بوجہ کثرت شغل تصوف مدرسہ کے لڑکوں اور استادوں میں مجھے صوفی کے نام سے شہرت دی گئی۔اور مکالمہ مخاطبہ کے وقت عند التذکرہ مجھے صوفی کے نام سے ہی ذکر کیا جاتا۔جب تعطیلات کے موقع پر میں واپس وطن کو آیا۔تو میں احمدیت کی نعمت کے اظہار کے لئے ایک جوش سے بھرا ہوا تھا۔اب میں نے ہر طرف دعوت وتبلیغ کا سلسلہ شروع کر دیا۔جہاں مجلس دیکھتا وہاں پہنچ کر السلام علیکم کے بعد اہل مجلس کو مبارک باد عرض کرتا۔وہ پوچھتے کہ کیسی مبارک باد ہے۔میں عرض کرتا۔حضرت مسیح موعود اور امام مہدی علیہ السلام ظاہر ہو گئے ہیں۔وہ پوچھتے کہاں اور کس طرح۔اس کے بعد تبلیغ شروع کر دیتا۔بعض ہنسی میں بات ٹال دیتے۔بعض انکار کر دیتے۔بعض مخالفت کرتے۔بعض کہتے کہ بھائی صاحبان ان کی بات تو سن لو۔الغرض ایک عرصہ تک جو۲ سال کا ہے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات تک آنریری طور پر خدا نے مجھے تبلیغ کی توفیق عطا فرمائی۔اور اس عرصہ میں کئی دفعہ مجھے آنحضرت کی زیارت نصیب ہوئی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت تو اگر ہر روز نہ ہوتی تو ہر ہفتہ میں تو ضرور ہی نصیب ہوتی۔کئی بار مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خواب میں مل کر کھانا کھاتے دیکھتا۔جب شروع شروع میں میں نے اپنے وطن میں تبلیغ شروع کی تو عوام میں ایک شور برپا ہو گیا۔اور علماء علاقہ سخت برہم اور شدید مخالفت اور جوش غضب سے بھر کر میرے اثرات کو دور کرنے کے لئے کمر بستہ ہو گئے۔چنانچہ علماء نے میرے خلاف اپنا پرانا اور مجرب حربہ استعمال کرنا مفید سمجھا۔اور جابجا خفیہ طور پر مختلف دیہات میں آدمی بھیج کر سب علماء علاقہ کو ہمارے گاؤں موضع را جیکی میں جمع ہونے کے لئے دعوت دی گئی۔چنانچہ بہت سے علماء بمع اپنے چیلے چانٹوں کے ہمارے گاؤں کی مسجد میں جمع ہو گئے۔اور مجھے بلایا گیا۔جب میں علماء کی مجلس میں جن کا لیڈر مولوی شیخ احمد ساکن دھر یکیں تحصیل پھالیہ ضلع گجرات تھے پہنچا اور میں نے عرض کیا کہ مولوی صاحبان فرمائیے کیا ارشاد ہے۔جس کیلئے مجھے بلایا گیا۔تو مولوی شیخ احمد بولے کہ آپ نے مرزا کو مہدی اور مسیح مانا ہے اور اس سے آپ کا فر ہو گئے ہیں۔ہم اس لئے آئے ہیں۔اور آپ کو بلایا ہے۔کہ آپ اس کفر سے توبہ کریں۔آپ کے آباء اجداد اولیاء اور صاحب کرامت بزرگ ہوئے ہیں آپ ایسے خاندان سے ہو کر جن کی مستورات بھی ولی اور صاحب کرامت تھیں۔اور ہم نے سنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو وضو سے دودھ پلایا کرتی تھیں اور آپ کے