تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 280 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 280

تاریخ احمدیت۔جلد 22 280 سال 1963ء میاں نور محمد صاحب ولد خلیفہ عبدالرحیم صاحب ولد حضرت شیخ حاجی ولد سارنگ ولد بیگ ولد لکڑ ولد راجہ ولد مگهو ولد کنور ہری ولد مہا راجہ جیتو ولد راجہ دیر ولد ماہی ولد دیور ولد پانڈ و ولد مو لا ولد سدھ ولد بگا ولد وڈ اولد وڑائچ ولد متہ ولد تھلپال ولد نار و ولد شاہ ولد کانش ولد ہر بند ولد سورج بنسی۔مہا راجہ جیتو کی سمادھ اب تک ریاست جنیند میں موجود ہے۔حضرت مولانا صاحب اپنے خاندانی حالات اور بیعت سے قبل اور بعد کے چند واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔میں ان کتابوں کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصانیف سے مجھے ملی تھیں انہی کو زیر مطالعہ رکھتا۔مولا نا امام الدین صاحب نے بھی اس طرف خاص طور پر توجہ فرمائی۔اور حضرت اقدس کی کتب کو اچھی طرح سے بغور مطالعہ فرمایا۔تو آپ کے خیالات تکذیب سے تصدیق کی طرف پلٹا کھا گئے۔اور پھر ہر دن آپ پر تصدیق کے خیالات میں ترقی دینے والا ہی ہوا۔اور پھر تصدیق کے لئے آپ کے یقینی مراتب میں اس سے بھی ترقی ہوئی۔چنانچہ ۱۸۹۸ء تک مولوی صاحب بالکل مصدق ہو گئے۔اور ۱۸۹۹ء کو مولوی صاحب موصوف بمع خاکسار را قم بغرض بیعت قادیان روانہ ہوئے۔اور دستی بیعت ہم دونوں نے جمعرات کی شام کو حضرت مسیح پاک کے ہاتھ پر کی۔حضور اقدس نے بعد بیعت فرمایا که درود شریف اور استغفار کثرت سے پڑھنا چاہئیے۔اور نیز فرمایا کہ نماز میں مادری زبان یعنی پنجابی میں بھی دعا کر لی جائے یعنی مسنونا نہ دعاؤں کے علاوہ۔اس پر مولانا امام الدین صاحب نے عرض کیا کہ پنجابی میں نماز کے اندر دعا کرنے سے نماز ٹوٹ تو نہ جائے گی۔ایسے سوال کو بیعت کرنے کے بعد کرنا مجھے اس وقت سخت ہی نا گوار محسوس ہوا۔دل میں خیال آیا کہ جب اب بیعت ہو چکی ہے تو اب جیسے حضور فرماتے ہیں اس کے متعلق سوال کرنے کی کونسی گنجائش باقی رہ گئی۔حضرت نے فوراً جواب دیا کہ نماز ٹوٹی ہوئی تو آگے ہی ہے۔ہم نے تو ٹوٹی ہوئی کو جوڑنے کے لئے تدبیر بتائی ہے۔جب ہم واپس ہوئے تو مولوی صاحب تو امرتسر اپنی ہمشیرہ کی ملاقات کے لئے ٹھہر گئے اور میں سیدھا لا ہور آ کر نیلا گنبد لاہور میں مدرسہ رحیمیہ میں داخل ہو گیا۔اس وقت میری عمر ۱۹ سال کی ہوگی۔رحیمیہ مدرسہ میں صرف ایک طالب علم حکیم عبدالعزیز پسروری میرا ہم عقیدہ تھا۔لیکن ابھی تک غیر احمدیوں کے پیچھے نماز اور جنازہ کی ممانعت نہیں ہوئی تھی۔اور نہ ہی اس وقت تک جماعت کے لئے امتیازی نام تجویز فرمایا گیا تھا۔بلکہ احمدی نام بعد میں مردم شماری کی تقریب کے موقع پر تجویز ہوا