تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 279
تاریخ احمدیت۔جلد 22 279 سال 1963ء صوفی مزاج لوگوں میں ان کی تقریر بہت ہی دلچسپ ، دلوں پر اثر کر نیوالی اور شبہات اور وساوس کو دور کرنے والی ہوتی ہے۔“ سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فروری ۱۹۵۷ میں آپ کو صد را مجمن احمد یہ پاکستان کا مستقل ممبر مقرر فر مایا چنانچہ اس وقت سے آپ صدر انجمن احمدیہ کے ممبر چلے آرہے تھے علاوہ ازیں آپ افتاء کمیٹی کے بھی رکن تھے۔مورخه ۱۵ دسمبر ۱۹۶۳ کو اچانک سینہ میں درد محسوس ہوا اور اس کے چند منٹ بعد آپ مولائے حقیقی سے جاملے۔118 آپ اگر چہ ایک مستجاب الدعوات بزرگ تھے اور بکثرت اللہ تعالیٰ آپ کی دعائیں سنتا اور جواب دیتا تھا۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ آسمانی برکات ملنے کا حقیقی ذریعہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ امام کی گہری اطاعت اور ادب و احترام ہی سے وابستہ ہے۔اس بات کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو سمجھانے کے لئے ایک موقع پر آپ کو فرمایا :۔اگرتو چاہتا ہے کہ تیرا قرضہ جلد اتر جائے۔تو خلیفہ المسیح کی دعاؤں کو بھی شامل کرلئے۔شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مجاہد مصر و ایڈیٹر اخبار الحکم نے آپ کی ایمان افروز روایات سپرد اشاعت کرتے ہوئے یہ نوٹ لکھا:۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی سلسلہ کے نامور علماء میں سے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں نوجوانی کے عالم میں آئے۔خدمت دین کے بہت مواقع آپ کو ملے اور اب تک تبلیغ سلسلہ میں ایک گرمجوش سپاہی کی طرح میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔میں نے ۱۹۱۹ء میں آپ کے ساتھ ایک لمبا تبلیغی سفر کیا۔حضرت مولوی صاحب ان دنوں اعصابی درد میں مبتلا تھے اور سخت تکلیف اٹھا رہے تھے۔مگر تکلیف کی سخت سے سخت گھڑیوں میں بھی وہ تبلیغ سے نہ رکتے تھے یہ شغف اور والہانہ جوش ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت سے ملا۔الغرض حضرت مولوی صاحب کا مقام مجاہدین سلسلہ میں ایک بلند مقام ہے۔20 حضرت مولانا صاحب برصغیر پاک و ہند کے مشہور سورج بنسی خاندان کے چشم و چراغ تھے گوت وڑائچ تھی۔آپ کا شجرہ نسب آپ ہی کے قلم سے درج ذیل کیا جاتا ہے ”غلام رسول بن کرم دین 66 صاحب ولد پیر بخش صاحب ولد حاجی احمد صاحب ولد محمد صاحب ولد عبدالغفور صاحب ولد حضرت