تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 278 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 278

تاریخ احمدیت۔جلد 22 278 سال 1963ء حاصل کیا۔بیعت کے بعد علی الخصوص آپ کے علم و عرفان اور تعلق باللہ میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی برکت بخشی۔اور آپ کو روحانی نعماء سے اس قدر حصہ وافر عطا کیا کہ آپ آسمان روحانیت کا ایک درخشنده ستاره بن کر نصف صدی سے زائد عرصے تک بھٹکے ہوؤں کو راہ راست پر لانے کا وسیلہ بنے رہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم و عرفان کے ساتھ ساتھ الہام اور رویا وکشوف کی نعمت سے نہایت درجہ حصہ عطا فرمایا تھا اور خدمت سلسلہ کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت غیر معمولی رنگ میں عطا فرمائی تھی۔یوں تو آپ سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کے بعد شروع ہی سے تبلیغ حق میں بے انتہا سرگرم واقع ہوئے تھے اور آپ کی زندگی ہمہ وقت میدان تبلیغ میں ہی بسر ہو رہی تھی۔لیکن سلسلہ عالیہ احمد یہ کے باقاعدہ مبلغ کے طور پر آپ نے خلافت اولی کے زمانے میں کام شروع کیا۔اور پھر قریباً نصف صدی تک ایسے ایسے عظیم الشان تبلیغی کارنامے سرانجام دیئے کہ جو رہتی دنیا تک یاد گار رہیں گے۔آپ نے اپنے تبلیغی تجارب اور زندگی میں پیش آنے والے غیر معمولی واقعات کو اپنی معرکۃ الآراء تصنیف ”حیات قدسی میں محفوظ فرما دیا ہے۔آپ نے اپنی زندگی میں آریوں عیسائیوں اور غیر از جماعت علماء سے صدہا نہایت درجہ کامیاب مناظرے کئے۔ہزاروں کی تعداد میں معرکۃ الآراء لیکچر دیئے۔اردو اور عربی میں نہایت اہم علمی موضوعات پر بے شمار قیمتی مضامین رقم فرمائے جو سلسلہ کے جرائد و رسائل اور اخبارات میں شائع ہوئے۔آپ کی عربی دانی نہ صرف جماعت میں بلکہ جماعت سے باہر بھی غیر از جماعت اہل علم حضرات کے نزدیک مسلم تھی۔آپ کے عربی قصائد منقوطہ و غیر منقوطہ نے آپ کی عربی دانی اور علم لدنی کا سب سے لوہا منوالیا تھا۔آپ کے آقا سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جن کے فیض صحبت سے آپ نے بہت کچھ پایا اور آپ کے علم و عرفان کو جلاء نصیب ہوئی۔۸ نومبر ۱۹۴۰ کو خطبہ جمعہ میں آپ کے علم وفضل اور تجر علمی کا ذکر کرتے ہوئے آپ کو حسب ذیل سند قبولیت عطا فرمائی کہ میں سمجھتا ہوں کہ مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کا اللہ تعالیٰ نے جو بحر کھولا وہ بھی زیادہ تر اسی زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔پہلے ان کی علمی حالت ایسی نہیں تھی مگر بعد میں جیسے یک دم کسی کو پستی سے اٹھا کر بلندی تک پہنچا دیا جاتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے ان کو قبولیت عطا فرمائی اور ان کے علم میں ایسی وسعت پیدا کر دی کہ