تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 277 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 277

تاریخ احمدیت۔جلد 22 277 سال 1963ء پیغام پہنچاتے۔خدمت خلق کا فریضہ فطری اور دلی جوش سے ادا کرتے اور بعض اوقات بڑے فخر سے یہ اظہار فرماتے کہ میں نے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا ، نہ کسی کے رعب میں آیا ہوں۔مرکز سلسلہ سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ایک موقعہ پر ایک امیدوار اسمبلی نے امداد حاصل کرنا چاہی تو آپ نے فرمایا کہ جب تک مجھے مرکز سے ہدایت نہ آئے مجھے معذور سمجھا جائے چنانچہ وہ صاحب سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے حضور قادیان حاضر ہوئے اور وہاں سے آپ کے نام تار بھجوایا۔جس کے پہنچتے ہی آپ نے اپنے حلقہ اثر سے خاص دوڑ دھوپ کر کے امیدوار کی خواہش سے بڑھ کر ووٹ دلوائے۔آخری عمر میں آپ گجرات سے منتقل ہو کر اپنے بیٹے مرزا محمد شریف بیگ صاحب سپرنٹنڈنٹ جیل ریٹائرڈ کے ہاں حویلی منصف چینوٹ میں فروکش ہو گئے تھے اور یہیں انتقال کیا۔آپ کی وفات پر احمدی اور غیر احمدی حلقوں کی طرف سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور کثرت سے تعزیتی خطوط موصول ہوئے۔حضرت شیخ غلام جیلانی صاحب ولادت: قریباً ۱۸۸۹ء بیعت : ۱۹۰۳ء وفات : ۱۳ نومبر ۱۹۶۳ء نیک صالح اور سلسلہ کے فدائی بزرگ تھے اپنے پیچھے چار بیٹے اور دو بیٹیاں یادگار چھوڑیں۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی ولادت : اگست ستمبر ۱۸۷۸ء (بمطابق وصیت فارم )۔آپ کی تالیف حیات قدسی جلد اصفحہ ۶ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ولادت بھادوں کے مہینہ میں ہوئی۔عیسوی کیلنڈر کی رُو سے یہ اگست، 115 ستمبر کے ایام تھے۔بیعت تحریری: ستمبر یا اکتوبر ۱۸۹۷ء زیارت : ۱۸۹۹ء وفات ۱۵ دسمبر ۱۹۶۳ء۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ممتاز صحابی، سلسلہ عالیہ احمدیہ کے جید و متبحر عالم ، صاحب رؤیا و کشوف اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔آپ موضع را جیکی ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کی پیدائش سے قبل خواب میں دیکھا تھا کہ گھر میں ایک چراغ روشن ہے جس کی روشنی سے سارا گھر جگمگا اٹھا ہے۔آپ نے ۱۸۹۷ء میں بذریعہ خط بیعت کی اور اس کے دو سال بعد ۱۸۹۹ء میں قادیان حاضر ہو کر دستی بیعت کا شرف