تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 13
تاریخ احمدیت۔جلد 22 13 سال 1963ء نئے ولولہ سے ہمکنار ہوتی ہے۔یہی نظارہ ۱۹۶۳ء میں بھی دکھائی دیا۔اس سال یہ مبارک مجلس ۲۲ ۲۳ ۲۴ مارچ ۱۹۶۳ء کو تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے ہال میں منعقد ہوئی۔حضرت مصلح موعود کے ارشاد کی تعمیل میں صدارت کے فرائض حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے انجام دیئے اور آپ نے تینوں دن اپنی فراست، معاملہ نہی، اصابت رائے ، نکتہ نوازی اور قوت بیانیہ سے گویا مسحور کئے رکھا۔کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ مشاورت آپ کی زندگی کی آخری مشاورت ثابت ہوگی۔اس پُر وقار مجلس کی کارروائی میں مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ امیر صوبائی وسیکرٹری نگران بورڈ کو حضرت قمر الانبیاء کی معاونت کا شرف حاصل ہوا۔مجلس میں اصلاح وارشاد کے کام کی وسعت، رشتہ ناطہ کی مشکلات کاحل، لاہور میں احمدیہ ہوٹل کا قیام ، مربیان سلسلہ کے لئے مرکزی مقامات میں مکانات کی تعمیر وغیرہ اہم امور زیر غور آئے اور مندرجہ ذیل اہم رپورٹس پڑھ کر سنائی گئیں۔رپورٹ نگران بورڈ ، رپورٹ صیغہ جات متعلقہ تحمیل فیصلہ جات، رپورٹ سیمینار اصلاح وارشاد، رپورٹ انسداد فتنه مسیحیت، رپورٹ انسداد فتنه مخالفین احمد بیت ، رپورٹ اشاعت لٹریچر، رپورٹ وفد مشرقی پاکستان۔یہ سب رپورٹیں جماعت احمدیہ کی ترقی پذیر جدو جہد کی آئینہ دار تھیں جن سے یہ حقیقت نمایاں تھی کہ مشکلات کے باوجود خدا کے اس پاک اور آسمانی سلسلہ کا قدم سرعت کے ساتھ آگے ہی آگے بڑھ رہا ہے۔(حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر صدرانجمن احمدیہ نے بھی اس موقع پر ایک رپورٹ پیش فرمائی جس میں دوستوں کو نہایت موثر طریق سے دو امور کی طرف توجہ دلائی۔اوّل یہ کہ جماعت کے خلاف فتنہ پھر سر اٹھا رہا ہے۔ہمارا تو کل، ہمارا بھروسہ اپنے رب پر ہے۔وہی ہماری پناہ ہے اور ہمیشہ وہی ہماری سپر بنے گا۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سو جائیں۔ہمیں چاہئے کہ ہم چوکس اور بیدار رہیں اور فروتنی تبلیغ ، حکومت سے تعاون اور عاجزانہ دعاؤں سے اس ابھرتے ہوئے فتنہ کو دبانے کی کوشش کریں۔دوسرے یہ کہ صرف یہی کافی نہیں کہ کتا ہیں اور اشتہار شائع کئے جائیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے پاس کافی تعداد میں علماء کی ایک ایسی جماعت ہو جنہوں نے خدمت دین کے لئے اپنی