تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 12 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 12

تاریخ احمدیت۔جلد 22 12 سال 1963ء کرتے کیونکہ مباہلہ کوئی کھیل نہیں ہے۔افسوس ہے کہ مولوی منظور احمد تصفیہ شرائط کی طرف آئے ہی نہیں اور از خود تاریخ مقرر کر کے عین عید الفطر کے روز ہنگامہ آرائی کی ٹھان لی اور دریائے چناب پر مباہلہ کے اجتماع کا سراسر یکطرفہ اشتہار شائع کر ڈالا۔اس پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب جھنگ نے اس خطرہ کو محسوس کرتے ہوئے کہ ایسے اجتماع سے دو فرقوں کے درمیان اشتعال اور منافرت پیدا ہوگی دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی۔اگر مولوی منظور احمد مباہلہ کی دعوت میں سنجیدگی اختیار کرتے اور اسے ہنگامہ آرائی اور فساد کا ذریعہ نہ بناتے تو بعد تصفیہ شرائط بغیر کسی ہنگامہ آرائی کے مباہلہ وقوع میں آسکتا تھا جس سے حکومت کو بھی کوئی تشویش پیدا نہ ہوتی۔امید ہے اس وضاحت کے بعد بعض اخباروں کی پھیلائی ہوئی یہ غلط فہمی دور ہو جائے گی کہ جماعت احمدیہ مباہلہ کا چیلنج قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھی۔جماعت احمد یہ اسلامی طریق کے مطابق بعد تصفیہ شرائط مباہلہ کے لئے ہر وقت تیار ہے لیکن وہ کسی فتنہ انگیز کو اس کی آڑ میں کھل کھیلنے کا موقع بہم پہنچانے کوملکی اور قومی مفادات کے ساتھ غداری تصور کرتی ہے۔پنجا گڑھ میں آتشزدگی اور جماعت کی بے لوث خدمات پنا گڑھ ضلع دیناج پور ( مشرقی پاکستان) سے ملحق ” یا بستی میں ۱۶ مارچ ۱۹۶۳ء کو ڈیڑھ بجے دن یکایک آگ کے شعلے بھڑک اٹھے اور خوفناک آتشزدگی نے پوری بستی کو خاکستر کر کے رکھ دیا اور ہزار ہا لوگ بے خانماں ہو گئے۔جماعت احمد یہ احمد نگر کے افراد جن کی تعداد چون (۵۴) تھی ایک نظام عمل کے ماتحت مسلسل تین روز تک اس حادثہ سے متاثر افراد کی بے لوث خدمات بجالاتے رہے۔چنانچہ انہوں نے انتیس مکان تعمیر کئے۔حسب ضرورت سامان مہیا کر کے دیا اور کچھ چاول اور نقدی بھی تقسیم کی۔الغرض خدمت خلق کے جذبہ کے تحت بڑے جوش اور اخلاص سے کام کیا۔مجلس مشاورت ۱۹۶۳ء لمصل 13 سیدنا فضل عمر الصلح الموعود نے اکتالیس سال قبل ۱۹۲۲ء میں متضرعانہ دعاؤں کے ساتھ مجلس مشاورت کی بنیاد رکھی تھی۔انہی دعاؤں کی برکت ہے کہ اس عظیم ادارہ کو سلسلہ احمدیہ کے نظام عمل میں ہمیشہ ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اس کے انعقاد سے جماعت ایک نئی زندگی نئے جوش اور