تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 260
تاریخ احمدیت۔جلد 22 260 سال 1963ء سلسلہ بیعت میں شامل ہونے کے بعد آپ نے عہد کیا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم کروں گا جسے انہوں نے عمر بھر خوب نبھایا۔اوائل عمر میں خوشنویسی کا کام کرتے تھے آپ عرصہ تک قادیان میں اخبار بدر ، الفضل اور سلسلہ کے رسائل اور مختلف لٹریچر قلیل تنخواہ پر لکھتے رہے۔۱۹۴۴ء کے جلسہ مصلح موعود لدھیانہ کے دوران انہوں نے مہمانوں کے قیام و طعام میں نمایاں حصہ لیا۔آپ جماعت احمد یہ لدھیانہ کے امیر بھی رہے اور دار البیعت کے قریب احمدیہ مسجد کی تعمیر بھی کرائی۔آپ کے دل میں احمدیت کا ایک سچا عشق اور جوش موجزن تھا۔ساری عمر نیکی ، تقویٰ، صبر و استقامت ، بردباری، درویشی اور سادگی میں بسر ہوئی۔مزاج صوفیا نہ تھا۔خلوت کے بے حد دلدادہ تھے۔دل کے سخی تھے اور ہر ایک سے ہمدردی اور خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے۔پاکستان بن جانے کے بعد ہجرت کر کے لاہور تشریف لے آئے اور یہیں بیرون بھاٹی دروازہ میں انتقال ہوا۔آپ حضرت حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی کے برادر نسبتی تھے۔حضرت ڈاکٹر ظفر حسن صاحب ولادت : ۲۰ دسمبر ۱۸۸۲ ء بیعت : ۱۹۰۳ ء وفات : ۲۵ جون ۱۹۶۳ء 82 آپ دھرم کوٹ رندھاوا ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے اور میڈیکل سکول امرتسر میں تعلیم کے دوران مسیح وقت پر ایمان لائے۔ڈاکٹری کے آخری سال میں جبکہ آپ کی تبلیغی سرگرمیاں زوروں پر تھیں اور قادیان سے تعلق بہت پختہ ہو چکا تھا سکول کے عملہ نے آپ کو احمدیت سے منحرف کرنے کے لئے سخت دباؤ ڈالاحتی کہ سکول کے پرنسپل اور پروفیسروں نے آپ کو بلا کر کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ تم کلاس میں ہوشیار ہو اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم تمہیں اس سال کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔اس پر آپ نے ایک مفصل مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں تحریر کیا اور دعا کی درخواست کی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو غالباً سنایا یا پڑھنے کے لئے پیش کیا۔بعد ملاحظہ حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا۔بشیر احمد ! ظفر حسن کو لکھ دو کہ دنیا کی کوئی طاقت اُن کو فیل نہیں کر سکتی۔جونہی ارشاد ڈاکٹر صاحب کو پہنچا۔انہوں نے فوراً اپنے پروفیسروں اور خصوصاً پرنسپل کو بتا دیا کہ آپ تو اس ناچیز کو فیل کرنے کے منصوبے تیار کر رہے ہیں لیکن حضرت مسیح زمان بشارت دے رہے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت مجھے فیل نہیں کر سکتی۔سکول کے سٹاف نے یہ بات سن کر