تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 259
تاریخ احمدیت۔جلد 22 259 سال 1963ء سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں کس قدر خلوص محبت اور ہمدردی کا جذبہ پایا جاتا تھا۔۱۹۴۷ء میں جب آپ ہجرت کر کے پاکستان آئے تو آپ پر ایک وقت تنگی کا بھی آیا فرمانے لگے کہ رمضان شریف آیا اور حال یہ تھا کہ پیسہ روپیہ سب خرچ ہو چکا تھا۔بعض اوقات باسی روٹی کھا کر روزہ رکھا۔اور صرف پانی پر ہی افطار کیا۔مگر یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ صبر شکر سے دن گزارے۔کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا یا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے رہے۔کہ اے میرے آقا تو محض اپنے فضل وکرم سے میری سب مشکلات دور فرما اور میرے لئے غیب سے رزق عطا فرما۔۔۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ پر فضل کیا۔اور آپ نے وہی مہمان نوازی اور غرباء پروری شروع کر دی۔آپ کے پوتے رشید احمد کی دکان اڈہ بس ربوہ میں تھی۔آپ کی خواہش پر لڑ کے آپ کو دکان پر لے جاتے آپ وہاں پر یہی خواہش کرتے تھے کہ مجھے قادیان لے چلو اور یہ خواہش شدت سے ان کے دل میں آخر دم تک کروٹیں لیتی رہی۔آپ نے اپنا ایک لڑکا ( خواجہ عبدالستار ) حفاظت مرکز قادیان کے لئے وقف کر دیا تھا جو ابھی تک قادیان دار الامان میں درویش ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنی حفاظت میں رکھے اور ان کی قربانی کو قبول فرمائے۔آمین ایک مرتبہ بھائی جی نے مجھ سے ذکر کیا کہ عبدالستار اس وقت تک قادیان میں درویش ہی رہے گا جب تک کہ قادیان دار الامان ہمیں مل نہیں جاتا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی ساری اولاد مخلص احمدی ہے۔آپ کے بڑے لڑکے خواجہ عبد الحمید صاحب مرکز میں کارکن ہیں۔حضرت آغا سلطان احمد صاحب لدھیانوی ولادت انداز ا۱۸۸۵ء۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے البتہ بیعت کے سن کا تعین نہیں ہو سکا۔وفات: بعمر ۷۸سال ۱۶ جون ۱۹۶۳ء 80 آپ کے والد آغا عبدالوھاب خاں صاحب لدھیانوی شہزادگان سادات کے معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ان کو بیعت سے قبل خواب میں حضرت مسیح موعود کی شبیہ مبارک اور قادیان کا نقشہ اور مسجد اقصیٰ کا نظارہ دکھایا گیا۔انہوں نے صبح اپنے گھر میں یہ خواب سنایا تو تمام افراد بہت متاثر ہوئے اور پھر یکا یک خدا کا ایسا فضل ہوا کہ تیسرے روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام اچانک لدھیانہ تشریف لے آئے تو آغا سلطان احمد صاحب نے اپنے والد بزرگوار اور اپنے بھائیوں کے ساتھ حضور کی بیعت کا شرف حاصل کیا۔یہ واقعہ حضرت اقدس کے دعوی کے ابتدائی سالوں کا ہے۔