تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 261 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 261

تاریخ احمدیت۔جلد 22 261 سال 1963ء پہلے سے زیادہ مخالفانہ رویہ اختیار کر لیا۔بایں ہمہ خدا کے مقدس مسیح کے مبارک ہونٹوں سے نکلے ہوئے الفاظ معجزانہ شان کے ساتھ پورے ہوئے اور آپ نہ صرف کامیاب ہو گئے بلکہ آپ کی تقرری کا خط (Appointment Letter) بھی ساتھ ہی پہنچ گیا۔فالحمد للہ۔ابتداء میں آپ کے والد ملک نظام الدین صاحب نے احمدیت قبول نہیں کی تھی گو مخالفت میں بھی حصہ نہیں لیا تھا۔آپ نہایت نرمی سے اُن کی خدمت میں احمدیت کا پیغام پہنچاتے رہا کرتے تھے۔اسی دوران عوام میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ مرزا صاحب پلاؤ، زردہ، قورمہ وغیرہ کھاتے ہیں حالانکہ نبی اور رسول کی ایسی خوراک نہیں ہوتی۔یہ سن کر آپ کے والد صاحب نے ارادہ کر لیا کہ خود قادیان جائیں گے اور اپنی آنکھوں سے جا کر حضرت مرزا صاحب کی خوراک دیکھیں گے۔چنانچہ اس غرض کے لئے قادیان پہنچے اور دوسرے چند مہمانوں کے ساتھ مسجد مبارک میں ہی ٹھہرے۔جب نماز مغرب کے بعد مہمانوں کے لئے کھانا آیا تو آپ نے کھانے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ تو یہ ارادہ کر کے گئے تھے کہ وہ حضرت مرزا صاحب کے ساتھ کھانا کھائیں گے یا کم از کم یہ معلوم کریں گے کہ وہ کیا کھانا کھاتے ہیں۔خدا کی قدرت ! تھوڑی دیر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی مسجد مبارک میں تشریف لے آئے اور آپ کا کھانا بھی وہاں آ گیا۔مہمانوں کا جو کھانا آیا وہ گوشت اور روٹی تھی اور آپ کے لئے روٹی اور مونگ کی دال۔یہ دیکھ کر آپ پر لوگوں کے اعتراض کی حقیقت کھل گئی۔آپ قادیان سے بہت اچھا اثر لے کر واپس آئے اور بعد میں جلد ہی بیعت کر لی اور ہجرت کر کے قادیان چلے گئے اور اگست ۱۹۳۰ء میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ میں دفن کئے گئے۔حضرت ڈاکٹر ملک ظفر حسن صاحب دوران ملازمت ہمیشہ ماتحتوں سے حسن سلوک اور مروت سے پیش آتے طبیعت بہت سادہ تھی اور ہر قسم کے تکلفات سے بیگانہ تھے۔اسلامی شعار کے سختی سے پابند تھے اور ملٹری میں ملازم ہونے کے باوجود شروع سے ہی داڑھی رکھتے تھے۔دوران ملا زمت بلکہ اخیر عمر تک علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا اور تبلیغی جنون کا یہ عالم تھا کہ ہر ملنے والے غیر احمدی دوست سے فوراً گفتگو کا رخ تبلیغ کی طرف موڑ دیتے تھے۔آپ جب ملٹری ہسپتال فیروز پور میں متعین تھے جمعہ کی نماز با قاعدگی کے ساتھ اپنی رہائش گاہ پر پڑھاتے تھے جس میں ملٹری کے احمدی ملازمین دورو نزدیک سے آپ کے ہاں تشریف لاتے۔عصر کی نماز کے بعد آپ درس قرآن بھی دیا کرتے تھے۔