تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 255
تاریخ احمدیت۔جلد 22 255 سال 1963ء بڑا اور کوئی چھوٹا تھا۔اماں نام سے پکارنے لگا۔۱۸۹۱ء کی عید الفطر کے دوسرے دن جو غالباً ماہ مئی میں تھی مسجد میں جو کہ بعد میں احمدیہ مسجد کے نام سے موسوم ہوئی جس میں چند معززین نے مل کر جس میں میرے بہنوئی حضرت قاضی خواجہ علی صاحب بھی شامل تھے۔ایک مکتب قائم کیا ہوا تھا جس کا نام انہوں نے مدرسہ احمد یہ رکھا تھا تعلیم شروع کی۔قریباً دو یا تین سال کے بعد مجھے گورنمنٹ سکول میں داخل کرا دیا گیا۔چونکہ میں نے مدرسہ احمدیہ میں قرآن کریم کے علاوہ اردو اور حساب وغیرہ بھی کافی کیا تھا۔اس لئے ہیڈ ماسٹر صاحب نے خوشی سے مجھے تیسری جماعت میں داخل کر لیا۔تیسری جماعت کے آخری امتحان میں نمایاں کامیابی پر سکول کی طرف سے خاکسار کو انعام دیا گیا۔لیکن اسی سال میرا بھانجا جو میری ہی عمر کا تھا۔پانچویں جماعت کے امتحان میں فیل ہو گیا۔چونکہ گورنمنٹ اسکول کے امتحانات اکتوبر میں اور دوسرے سکولوں کے امتحان دسمبر میں ہوا کرتے تھے۔اس لئے ہم دونوں کو گورنمنٹ سکول سے نکال کر اسلامیہ سکول میں داخل کر دیا گیا۔جہاں چوتھی جماعت کے سالانہ امتحان میں خاکسار کو دینیات میں اول انعام حاصل ہوا۔اور پانچویں جماعت میں وظیفہ، چھٹی ر جماعت میں انگریزی کے کورس میں چند اسباق کے بعد ایک نظم تھی۔"O Heavenly Father by whose hand thy people still are fed۔" جس کا ابتدائی حصہ یہ تھا۔جس پر مجھے اعتراض پیدا ہوا کہ ہمیں انگریزی کے پردہ میں عیسائیت کی تعلیم دی جاتی ہے۔اور میں نے انگریزی کی تعلیم بالکل ترک کر دی۔اور کسی کی نصیحت میرے لئے مؤثر ثابت نہ ہوئی۔اساتذہ نے محبت اور سختی سے سمجھانے کی کوشش کی مگر بے سود آخر ۹۸ء کے اکتوبر میں تعلیم ترک کر کے تونسہ کا سفر اختیار کیا اور صعوبتیں برداشت کرتا ہوا تو نسہ ضلع ڈیرہ غازیخان پہنچا اور خواجہ اللہ بخش صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی مگر وہاں میری دینی تعلیم کا بندو بست نہ ہو سکنے کی وجہ سے ایک دوسرے بزرگ کے ہمراہ جنہوں نے تعلیم کا بندوبست کرنے کا وعدہ کیا روانہ ہوا، جنہوں نے لیہ پہنچ کر مجھے ایک مولوی صاحب کے سپر د کر دیا۔جہاں پندرہ بیس دن قیام کر کے تعلیم کا کوئی بندو بست نہ پا کر واپس لوٹا اور محمود کوٹ ریلوے اسٹیشن پر ایک نانبائی کی دوکان پر کام کرنے لگا اور پھر اسی کے ساتھ شیر شاہ ریلوے اسٹیشن پر آیا۔موسم گرما میں اسٹیشن پر پنکھا قلی کا کام اختیار کیا۔اور اسی اثناء میں میرے ضمیر نے تعلیم کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ جو حصہ تعلیم مذہب کے خلاف نظر آئے۔اسے ترک کر کے زبان سیکھ لینی