تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 254 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 254

تاریخ احمدیت۔جلد 22 254 سال 1963ء بچوں کی طرح رکھا۔اس وقت دادا محترم کی عمر قریباً بارہ سال تھی صحیح نام تو معلوم نہیں ہو سکا مگر عام معروف نام میاں سادی تھا جو ہو سکتا ہے کہ سعد الدین ہو یا سعادت علی ہو یا کچھ اور۔سفیدوں سے ہجرت کی وجہ جو والدہ مکرمہ نے بتائی وہ جنگ یا و با تھی جو بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ہمارے خاندان کے مورث اعلیٰ باہرہ ملک مصر سے وارد ہندوستان ہوئے تھے۔اور انہوں نے دریائے جمنا کے دائیں کنارے ایک اونچے ٹیلے پر قیام کیا اور اپنا فرض منصبی ( تبلیغ ) ادا کرنے لگے۔اور اس جگہ کا نام اپنے وطن مالوف کی نسبت سے باہری رکھا۔اس کے بعد خاندان کے متعدد جوان شاہی افواج میں شامل ہو کر خدمات بجالانے لگے۔چنانچہ ہمارے خاندان کے چند نو جوان اپنے ہی کمانڈر کے زیر کمان تھے۔حکومت مغلیہ نے مبلغ اسلام کی حیثیت سے یا فوجی خدمات کے صلہ میں خاندان کے رکن اعلیٰ کو سولہ گاؤں کی جاگیر معافی عطا کی جس کا مرکز سفیدوں تھا۔سلطنت مغلیہ کے ضعف کے پیش نظر سکھوں نے پنجاب میں اودھم مچانا شروع کیا اور ریاستیں قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔چنانچہ ہماری تمام جا گیر ریاست جنبہ کے حصہ میں آگئی۔چونکہ جاگیر معافی تھی۔ہمارے بزرگوں نے سرکاری لگان ادا کرنے سے سرکاری پٹہ کی بنا پر انکار کیا۔اور اس پر آخری وقت تک اڑے رہے۔یہاں تک کہ ریاست نے قتل عام کا ایسا مظاہرہ کیا کہ معصوم بچوں کو بھی تہ تیغ کر دیا۔چنانچہ سفیدوں کا گنج شہیداں آج تک شہادت ادا کر رہا ہے۔بہت سی خواتین نے اپنے معصوم بچوں کو کسی نہ کسی ذریعہ وہاں سے نکال دیا اور خود اپنی عزت کی حفاظت کرتی ہوئی کنوؤں میں ڈوب کر مر گئیں۔انہیں میں ہمارے جد دیا امجد کی والدہ محترمہ بھی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرما دے کہ یہ غلطی عزت جیسی قیمتی متاع کی حفاظت میں سرزد ہوئی۔میرے جد امجد کے گھر میں ہیں لڑکے اور کچھ لڑکیاں جو شاید دو یا تین تھیں پیدا ہوئیں۔اور ایک ایک دن میں دو دولڑکوں کے جنازے گھر سے نکلے۔صرف دولڑ کے یعنی میرے والد محترم اور چچا بچے ، میرے والد محترم کا اسم گرامی سید فتح الدین تھا اور چچا جان کا نام معروف میاں شیرا تھا جو غالباً شیر الدین یا شیر محمد یا شیر علی ہو گا۔وہ عین جوانی کے عالم میں جبکہ میرے والد محترم کے گھر میں پانچ بچے پیدا ہو چکے تھے وہ کنوارے ہی فوت ہو گئے۔میری عمر قریباً تین سال کی تھی جبکہ والد محترم کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔قریب چھ سال کی عمر میں یعنی ۱۸۹۱ء میں مجھے لودھیا نہ میری بڑی ہمشیرہ کے پاس پہنچا دیا گیا۔جن کو میں پہلے بی بی کے نام سے اور پھر ان کے بچوں کی نقل کرتے ہوئے جن میں سے کوئی مجھ سے