تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 256 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 256

تاریخ احمدیت۔جلد 22 256 سال 1963ء چاہئیے۔چنانچہ اکتو بر ۹۹ء کو واپس لدھیانہ پہنچا۔اور سکول میں داخل ہو کر تعلیم شروع کی اور ساتویں کے امتحان میں کامیاب ہو گیا۔دوسرے سال یعنی جنوری ۱۹۰۱ ء میں مڈل کے امتحان میں شامل ہوا۔مگر تاریخ جغرافیہ میں فیل ہو گیا۔کچھ فیل کا رنج اور کچھ گھر والوں کی طرف سے ملامت سے تعلیم کا خیال ترک کر کے ڈاکخانہ میں جیٹھی رسانی شروع کر دی۔میں رڑ کی کالج میں مکینیکل تعلیم کے لئے داخل ہوا۔اس وقت وہاں کوئی احمدی نہ تھا۔میں جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز ادا کیا کرتا تھا۔دوسرے سال ہماری کلاس میں ایک طالب علم مسمی محمد امین پسر بابو امام الدین اوورسیئر سکنہ بھیرہ داخلہ میں آ گیا۔اور ایک طالب علم لو دھیانہ کا مسمی گل محمد بھی۔وہ دونوں بیرک نمبرے میں رہتے تھے اور میں بیرک نمبر 1 میں۔میں اکثر رات کو بیرک نمبرے میں گل محمد صاحب کے پاس جایا کرتا تھا۔چند یوم کے بعد جبکہ مجھے محمد امین کی احمدیت کا علم ہوا۔تو میں نے بجائے گل محمد کے پاس بیٹھنے کے محمد امین کے پاس بیٹھنا شروع کیا جو گل محمد کے لئے قدرے دکھ کا موجب ہوا چنانچہ گل محمد نے مذہبی گفتگو شروع کی اب میں نے روزانہ جانا شروع کیا۔اور مسئلہ زیر بحث نبوت ہی تھا۔جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے سورہ فاتحہ پیش کرائی۔اسی پر کئی دن بلکہ کئی ہفتے گفتگو ہوتی رہی۔آخر اللہ تعالیٰ نے گل محمد صاحب کو احمدیت کی صداقت کا قائل کر دیا۔چنانچہ ۱۹۰۵ء ماہ جولائی میں ہم دونوں نے قادیان پہنچ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔محمد امین کی زبانی ایک اور طالب علم کا پتہ ملا جو کہ اوورسیئر کلاس کا طالب علم تھا اور دھرم کوٹ رندھاوا ضلع گورداسپور کا رہنے والا تھا۔چنانچہ ۱۹۰۵ء کے شروع سے ہی ہم نے باجماعت نماز کا بندو بست کیا اور اتفاقاً انہوں نے مجھ کو ہی امام صلوۃ منتخب کیا۔جمعہ کی نماز کے متعلق حضرت مولانا نورالدین صاحب کی خدمت میں لکھا گیا کہ نماز جمعہ کے لئے کم از کم کتنے آدمیوں کی موجودگی ضروری ہے۔جواب ملا کہ ہر باجماعت نماز کے لئے کم از کم دو آدمیوں کا ہونا ضروری ہے۔ایک امام اور ایک مقتدی۔چنانچہ اس کے بعد نماز جمعہ بھی پڑھی جانے لگی۔کالج کو رس ختم کرنے کے بعد اپرنٹس شپ یعنی عملی تعلیم کے لئے اٹک، کلکتہ اور بانکی پور وغیرہ مقامات میں رہا۔صرف کلکتہ کے مقام پر بعض یوپی کے مسلمانوں نے مخالفت کی۔۱۹۰۹ء میں تعلیمی کورس ختم ہوا۔اس کے بعد ملازمت کا سلسلہ شروع ہوا۔جہاں بھی گیا۔کسی نہ کسی رنگ میں مخالفت نے میرا ہمیشہ ساتھ دیا۔غالباً اسی طریق سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمیشہ بیدار رکھا۔الحمد للہ ۱۹۱۳ء میں جبکہ ملا کنڈ ٹنل میں کام کر رہا تھا۔میرے ایک دور کے