تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 253 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 253

تاریخ احمدیت۔جلد 22 253 سال 1963ء ۱۹۰۷ء میں میں کلکتہ پہنچا جہاں میرے اور دوست پہلے گئے ہوئے تھے۔انہوں نے پہلی ملاقات میں مجھ سے یہ مطالبہ کیا کہ اب تم کلکتہ پہنچ گئے ہو۔اگر تم اپنا انفلوئنس ( اثر ) قائم رکھنا چاہتے ہو تو ہیٹ کا استعمال کرو۔میں نے جواب دیا کہ میں آزاد نہیں ہوں۔جب تک اس کے متعلق دریافت نہ کرلوں استعمال نہیں کر سکتا۔چنانچہ میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں تحریر کیا جس کا جواب حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے دیا کہ ہیٹ میں ایک قباحت تو یہ ہے کہ اُسے اجنبی دیکھنے والا شخص مسلمان نہیں سمجھتا اس لئے وہ اسلامی سلام سے محروم رہ جاتا ہے۔دوسری یہ کہ اس سے سجدہ ادا نہیں ہوسکتا اس لئے شرعاً ممنوع ہے۔الفاظ شاید اور ہوں مگر مفہوم یہی تھا جو میں نے سمجھا کیونکہ یہ خط اور دوسرے بہت سے خطوط گھر والوں کی بے احتیاطی سے ضائع ہو گئے اس لئے بجنسہ نقل نہیں کر سکتا۔چونکہ مجھے حضرت اقدس علیہ السلام کی پاک صحبتوں میں زیادہ بیٹھنے کا موقعہ نہیں ملا۔اگر ملا بھی تو بہت دُور جہاں کوئی بات سنائی نہیں دیتی تھی اس لئے میں حضور کی بیان کردہ کوئی بات عرض کرنے سے معذور ہوں۔ذیل میں حضرت سید مبارک علی شاہ صاحب لدھیانوی مکینیکل انجینئر ز کے قلم سے ان کے خود نوشت حالات سپر دقر طاس کئے جاتے ہیں۔اپنی یادداشت اور تحقیق کی روشنی میں ذیل کے کوائف قلمبند کرتا ہوں۔میری پیدائش کی تاریخ کا صحیح علم نہیں۔میری سب سے بڑی ہمشیرہ جو والدین کی سب سے بڑی اولا د تھی کی پیدائش اس قحط کے ایام میں ہوئی تھی جو کہ ۱۹۱۷ بکرمی میں پڑا تھا اس سے تین سال چھوٹی دوسری ہمشیرہ اور ان سے تین سال کے وقفہ سے میرے بھائی سردار علی شاہ ، کرم علی شاہ و برکت علی شاہ پیدا ہوئے اور اس سے چار سال بعد تیسری ہمشیرہ اور اس کے تین تین سال کے وقفہ سے دو ہمشیرگان اور خاکسار پیدا ہوا گویا میری پیدائش بڑی ہمشیرہ سے پچھپیں یا چھپیں سال بعد ہوئی۔اس حساب سے میری پیدائش ۱۸۸۶ء بنتی ہے اور تاریخ ۱۴ ربیع الثانی تھی۔یہ سب روایات والدہ محترمہ کی ہیں۔جو میرے دریافت کرنے پر انہوں نے بیان فرمائیں۔نیز یہ بھی بتایا کہ میرے(خاکسار کے ) جدامجد سفیدوں سے معہ اپنے چھوٹے بھائی کے ایک غلام اور لونڈی کے ہمراہ سفر کرتے ہوئے خانپور پہنچے جو کہ پٹیالہ کی ریاست کا سرحدی گاؤں ہے۔خانپور میں اس وقت راؤ خانا کی اولاد جو کہ مسلمان راجپوتوں کا ایک زبردست گھرانا تھا آباد تھی۔ان راجپوتوں نے آنے والے نو واردوں کو اپنے پاس